سیاستمضامین

تبدیلی مذہب سے نسلی اور مذہبی تعلق کی نا معقول منطق؟

سید علی حیدر رضوی ۔ایم اے ( عثمانیہ)۔ ایم اے ایم سی جے( مانو)

ہر انسان کسی نہ کسی خاندان میں پیدا ہوتا ہے اور ہر خاندان کا تعلق کسی نہ کسی نسل سے ہوتا ہے بغیر ماں باپ کے کوئی بچہ متولد نہیں ہو سکتا ۔دنیا میں کوئی ایسی نظیر ہے ہی نہیں کہ کوئی بچہ بن ماں باپ کے یا بن ما کے پیدا ہوا ہو۔ توالد و تناسل کیلئے دونوں کا ہونا لازمی ہے۔ البتہ دنیا میں ازل سے اب تک دو ہی مثالیں ہمیں ملتی ہیں جو اس مسلمہ کوتوڑتی ہیں۔ ایک مثال حضرت آدم علیہ السلام کی ہے جو بن باپ اور ماں کے پیدا ہوئے تھے۔ وہ پہلے انسان تھے۔ ابو البشر ہیں ان ہی کی ذات سے توالد و تناسل کا سلسلہ شروع ہوا اور دراز ہوا۔ ان کی پیدائش واحد نظیر ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی لازوال قدرت کا ملہ کی نشانی ہے۔ معجزہ ہے دوسری مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے جو اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے جو بن باپ کے پیدا ہوئے لیکن ماں حضرت مریم ؑتھیں اور قدرتی طور پر حاملہ ہوئی تھیں۔ علاوہ ان دو مثالوں کے کوئی تیسری مثل موجود نہیں ہے ورنہ اب تک جتنے انسان پیدا ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی پیدا ہوتے رہیں گے وہ کسی نہ کسی خاندان قبیلے اور علاقے یا وطن میں پیدا ہوتے رہیں گے ۔ ان ے پیدا ہوتے وقت کوئی مذہب بھی ہوگا لیکن مولود کا مذہب اس کے ماں باپ خاندان وقبیلے سے ہوگا نا کہ اس کی نسل سے علاوہ نسل کے جتنے زائد پر ذات تعلقات ہیں وہ اختیاری ہیں کیونکہ بالغ ہونے کے بعد انسان انہیں اختیار کرنے کا حق رکھتا ہے۔ مذہب بھی اختیاری حق ہے چنانچہ ہر انسان اپنا مذہب تبدیل کر سکتا ہے۔ دوسرے مذہب کو اختیار کر سکتا ۔ یہ اس کا پیدائشی اور جائز آزادانہ حق ہے۔ اس میں کسی کو اعتراض کرنے منع کرنے اور روکنے ٹوکنے اور رکاوٹیں پیدا کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس میں نہ ماں باپ کو حق اور نا حکومت یا خاندان و قبیلے کو ۔ البتہ وہ دوسری وابستگیوں جیسے ماں باپ کو چننے یا پیدائش کے وقت اپنا مقام قبیلہ چننے میں لاچار اور بے بس ہے اسی وجہ سے یہ قدرتی ادارے کہلاتے ہیں۔ مرتے دم تک وہ ان ہی نسبتوں سے منسوب ہوگا ۔ اس کی اپنی ذات خاندان اور ثقافت اور زبان سے محض مذہب بدلنے سے رشتہ نہیں ٹوٹ جاتا ۔ کیونکہ داخلی اور مستقبل نسبتیں اور تعلقات ہیں۔ مذہب خارجی معاملہ ہے۔ یہ اختیار ہے۔ مزید برآں مذہب کا روحانی ہوتا ہے۔
چنانچہ مدراس ہائی کورٹ نے ایک ایسے شخص کے مقدمے جس نے اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرلیا تھا فیصلہ سنایا کہ تبدیلی مذہب کے بعد ذات سے تعلق برقرار نہیں رہ سکتا۔ مذہبی انحراف کرنے والا شخص مذہب تبدیل کرنے سے قبل جو کمونٹی فوائد حاصل کیا کرتا تھا بعد مذہب تبدیل کرنے کے ان فوائد کو حاصل کرنے کا حق کھو دیتا ہے چنانچہ پھر سے وہ حقوق او رمراعات کے حصول کا دعویٰ نہیں کر سکتا جب تک کہ ریاست کی جانب سے واضح طورپر اجازت حاصل نہ کرے اور ریاست اسے اس کی اجازت نہ دے دے۔ اس مقدمے کے ذیل میں مدورائی بنچ کے جسٹس جی آر سوامی ناتھن نے درخواست گزار کی داخل کر دہ عرضی کی سماعت کرتے ہوئے جس کے ذریعہ ٹامل ناڈو پبلک سرویس کمیشن کی کارروائی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے ادعا کیا تھا کہ اس کے ساتھ پسماندہ طبقہ (مسلم ) کے طور پر برتائو یاسلوک نہیں کیا گیا ہے اور مشترکہ سیول سرویس امتحان II‘ گروپ II سرویس ‘جنرل زمرہ میں شمار کیا گیا ۔ یعنی اسے بحیثیت جو پسماندہ فرد کے جو رعایات اور حقوق حاصل تھے ان سے صرف اس بنیاد پر کہ اس نے اسلام اختیار کرلیا ہے۔ محروم کر دیا گیا ہے۔ہائی کورٹ نے استفسار کرتے ہوئے کہ آیا کسی ایسے شخص کو کمونٹی ریزرویشن ( قومی تحفظات حقیقی) پسماندہ ذاتو ں کو حاصل تحفظاتی حقوق ) کا فائدہ دیا جا سکتا ہے۔ جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ لہٰذا ہائی کورٹ کو حسب قاعدہ ایسے معاملہ میں حق حاصل نہیں ہے۔ وہ اس معاملہ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا ۔ عدالت نے کہا کہ جیسا بس یاسمین کیس میں مشاہدہ کیا گیا ہے کوئی شخص تبدیل مذہب کے اپنی برادری یا ذات سے وابستہ رہنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا ۔ آیا تبدیلی مذہب کے بعد بھی ایسے منحرف مذہب شخص کو تحفظات کا معینہ فوائد کا فائدہ دیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ یہ وہ سوال ہے جو سپریم کورٹ کے سامنے زیر ا لتواء ہے۔جب معزز سپریم کورٹ کو اس معاملہ پر فیصلہ دینے کیلئے رجوع کیا جا چکا ہے تو اب ہائی کورٹ ( مدراس ہائی کورٹ) درخواست گزار کے دعوے کو برقرار نہیں رکھ سکتی لہٰذا عدالت نے درخواست گزار ٹی این ایس سی کے فیصلہ میں مداخلت کرنے یا فیصلہ دینے سے کر دیا اور کہہ دیا کہ کمیشن کا فیصلہ درست ہے۔
یہاں اس بات کی ضروری دکھائی دیتی ہے کہ درخواست گزار پسماندہ شخص سابق میں ہندو تھا لیکن اس نے اسلام قبول کرلیا ہے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد ٹاملناڈو پبلک سرویس کمیشن سے یہ درخواست کی تھی کہ اسے گروپ IIسرویس‘ کا امتحان دینے کی اجازت دی جائے اور اسے ان حقوق سے بہرہ مند ہونے کی اجازت دی جائے کیونکہ قومیت کے اعتبار سے پسماندہ ہے لیکن آبائی دین کو ترک کر کے اسلام مذہب قبول کر چکا ہے لیکن محکمہ پبلک سرویس کمیشن نے ا زروائے دستور اسے ان مختص کردہ فوائد سے مستفید ہونے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ چونکہ وہ مذہب تبدیل کر چکا ہے اور مسلمان ہو چکا ہے اور دستور میں مسلمانوں کو پسماندہ اقوام کے حقوق حاصل نہیں ہیں لہٰذا اب اسے پسماندہ ذات میں شمار کیا نہیں جا سکتا لیکن وہ بحیثیت ہندوستانی شہری مشترکہ سیول سرویس امتحان IIکے جنرل زمرہ ( عام زمرہ) میں شریک ہو سکتا ہے ۔ حالانکہ مذکورہ شخص کا تعلق پسماند ہ طبقہ ڈی این سی سے تھا اور اس پسماندہ طبقہ کو ا زروئے دستور مراعات حاصل ہیں لیکن مذہب تبدیل کرنے کے بعد یہ مراعات کالعدم ہو جاتی ہیں چنانچہ پبلک سرویس کمیشن نے اسی نکتہ کی بنیاد پر اسے مراعات سے مستفید ہونے سے روک دیا اور مراعات دینے سے انکار کر دیا۔ درخواست گزار نے اسی عذر کو لیکر مدراس ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور مقدمہ جسٹس جی آر سوامی کی بنچ پہنچا لیکن پبلک سرویس کمیشن نے اپنے فیصلہ کی مدافعت میں دستور کی اس دفعہ کا حوالہ دیا اور مدراس ہائی کورٹ کو اس بات سے بھی واقف کر ایا کہ اس تعلق سے معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہٰذا مدراس ہائی کورٹ کوئی فیصلہ نہ دے۔ چنانچہ مدراس ہائی کورٹ کے جسٹس جی آر سوامی ناتھن نے ایس ۔یاسمین کے مقدمے کے ضمن میں دئیے گئے فیصلہ کی نظیر دیتے ہوئے ریمارک کیا کہ کوئی بھی شخص تبدیلی مذہب کے بعد اپنی برادری سے وابستہ رہنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ لیکن درخواست گزار کا ادعا یہ تھا کہ مذہب کی تبدیلی سے ذات برادری پر اسکا اثر نہیں پڑ سکتا۔
یہ پبلک سرویس کمیشن کا یہ موقف ازروائے دستور اپنی جگہ درست اور بجا ہے کیونکہ اسے اپنی خدمات کے مطابق دستور اور مروجہ قواعد کے تحت انجام دینا ہیں ۔ عدالت بھی اس قانون رائج رہنے تک کوئی آزادانہ موقف اختیار کرنے سے قاصر ہے لیکن اس میں منقسم یہ ہے کہ یہ دستور کی روح کے مغائر ہے۔ منطقی اعتبار سے بھی یہ درست نہیں ہے۔
علم سیاسیات یا پولیٹیکل سائنس کا ایک ادنیٰ طالب یہ جانتا ہے کہ خاندان قبیلہ اور ریاست مستقل ادارے یا Permanent Institutionہیں جبکہ مذہب ایک اختیاری ادارہ یا Optional Institutionہے۔ مذہب سے خاندانی تسلسل کو جوڑنا غیر منطقی اور غیر فطری ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک جس کا دستور اور آئین تمام مذاہب کو یکساں مقام عطا کرتا ہے کسی خاص مذہب کو کسی مذہب پر فوقیت یا افضلیت نہیں دیتا اور نہ ہی مفضولیت دیتا ہے۔ ہر شخص کو یہ آزادی بھی دیتا ہے کہ وہ کوئی بھی مذہب جو پسند ہے اور روحانی سکون دیتا ہے اختیار کر سکتا ہے ۔ اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کر سکتا ہے حکومت کو فرد کے مذہبی معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے قانوناً اسے اس کی اجازت ہے۔ کسی شہری کو اس اس کے پسندیدہ مذہب کو اختیار سے روکنے کا اختیار حکومت کو نہیں ہے۔روکنا اور منع کرنا یا ک سی قسم کی پابندی عائد کرنا غیر دستوری ہے مذہبی آزادی کے حقوق سے استفادہ سے جبراً باز رکھنا ہے۔
پھر دلتوں ‘ پسماندہ طبقات اور دستور کے مطابق ذاتوں اور طبقات کو تحفظات عطا کئے گئے ہیں انہیں ان تحفظ کردہ حقوق سے محروم کرنا یا ان سے یہ حقوق چھین لینا غیر دستوری ہے لیکن حصول آزادی اور دستور ہند کے نفاذ کے بعد سے اس شق پر مسلسل عمل ہوتا آرہا ہے۔ اب اس کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کی گئی ہے کہ قبل اس کے دائر کی جا کچی ہیں۔ اب یہ معاملہ ہائی کورٹ سے گزر کر سپریم کورٹ میں پہنچا ہے۔ امید ہے سپریم کورٹ عمیق جائزہ لیگا اور تمام پہلوئوں کا جائزہ لیگا۔
یہاں ایک اور بات ضروری طور پر ذکر کرنی ہے کہ جب سے موجودہ سرکار برسر اقتدار آئی ہے مذہبی تعصب بڑھ گیا ہے چنانچہ تبدیلی مذہب ایک سیاسی حربہ اور سیاسی مفادات کے حصول کا ایک ہتھکنڈہ بن گیا ہے۔ ووٹوں کی خاطر منافرت پھیلائی جارہی ہے خاص کر اسلام اور عیسائیت کے خلاف ایک منصوبہ بند اور منظم تحریک چلائی جارہی ہے۔ مذہب تبدیل کرنے پر پابندی عائد اور اسے روکنے کیلئے خلاف دستور مختلف حیلے بہانوں کے ذریعہ پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ اس کا خیال بھی عدالتوں کو ملحوظ ہونا چاہئے ۔ اب تبدیلی مذہب کو جبراً روکنے کیلئے زبردستی تحریص کے ذریعہ مذہب تبدیل کرانے کا ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ہے بھی اس کی قانون میںپہلے سے پروپیگنڈہ ہے۔ حقیقت میں گنجائش موجود ہے پھر کیوں یہ حشر برپا ہے دراصل اس حیلے سے مسلمانوں اور عیسائیوں کو یہ الزام لگا کر کہ انہو ںنے فرد کا جبراً مذہب تبدیل کرایا ہے نشانہ بنایا جائے اور خصومت نکالی جائے۔ اس کیلئے ہی بجرنگ دل ہندو واہنی وغیرہ تنظیمیں پہلے سے متحرک ہیں۔
۰۰۰٭٭٭۰۰۰