جرائم و حادثات

مندر میں سات سال کی بچی کے ساتھ منھ کالا کرنے والےمجرم کو 30 سال قیدبامشقت کی سزا

سپریم کورٹ نے مندر کے احاطے میں سات سال کی بچی کے ساتھ منھ کالا کرنے والے مجرم کو 30 سال قید باشقت کی سزا اور متاثرہ کو ایک لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مندر کے احاطے میں سات سال کی بچی کے ساتھ منھ کالا کرنے والے مجرم کو 30 سال قید باشقت کی سزا اور متاثرہ کو ایک لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس سی ٹی روی کمار اور راجیش بندل کی بنچ نے کہا کہ مجرم بھگّی عرف بھاگیرتھ نے مندر کی پاکیزگی کی پرواہ کیے بغیر ایک وحشیانہ حرکت کی جو متاثرہ بچی کو ہمیشہ کے لیے پریشان کر سکتی ہے۔

بینچ نے 2018 کے افسوس ناک اور وحشیانہ واقعے کے معاملے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مجرم کو 30 سال کی اصل سزا مکمل ہونے سے پہلے جیل سے رہا نہیں کیا جانا چاہیے۔

تاہم، سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم میں ترمیم کی، جس نے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 376اے بی کے تحت سزا کو موت کی سزا سے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

درخواست گزار مجرم نے دلیل دی تھی کہ ہائی کورٹ نے درج کیا تھا کہ جس طریقے سے جرم کیا گیا وہ وحشیانہ اور ظالمانہ نہیں تھا۔ اس کے وکیل نے عدالت کے سامنے دلیل دی کہ چونکہ اس کی کوئی مجرمانہ تاریخ نہیں ہے، اس لیے مجرم کو کم سے کم جرمانے کے ساتھ 20 سال کی سخت قید کی سزا سنائی جائے گی۔

بنچ نے یہ بھی کہا کہ ایک بار آئی پی سی کی دفعہ 376اے بی کے تحت سزا برقرار رہنے کے بعد، مقررہ مدت کی سزا 20 سال سے کم مدت کے لیے نہیں ہو سکتی۔

عدالت عظمیٰ نے واضح طور پر کہا، ”آئی پی سی کی دفعہ 376 اے بی کے تحت، جب کم از کم 20 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے (جسے عمر قید تک بڑھایا جاسکتا ہے) تو مجرم کو جرمانہ بھی پوری کرنی پڑتی ہے جو طبی اخراجات کو پورا کرنے اور متاثرہ کی بحالی کے لئے مناسب ہوگی ۔