ایشیاء

پاکستان میں مخلوط حکومت کی تشکیل کے لئے سرگرمیاں تیز

پاکستان میں مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لئے معاملتیں شروع ہوگئی ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتیں فیصلہ کن بات چیت میں مصروف ہیں۔

اسلام آباد/ لاہور: پاکستان میں مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لئے معاملتیں شروع ہوگئی ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتیں فیصلہ کن بات چیت میں مصروف ہیں۔

متعلقہ خبریں
بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کی سزا کو مزید سخت بنایا گیا: ہائیکورٹ
ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں میں 66 فیصد اضافہ
نواز شریف کی انتخابات میں کامیاب جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ساتھ بیٹھنے کی دعوت
امریکہ کا عمران خان اور دیگر قیدیوں کی حفاظت پر اظہارِ تشویش
توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل

عام انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ملک میں معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ متحدہ حکومت تشکیل دینے کی کوششیں زور پکڑنے لگی ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے جنہیں ایسا لگتا ہے کہ طاقتور فوج کی تائید حاصل ہے‘ جمعہ کے دن حریف سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کے لئے متحد ہوجائیں۔

جیل میں بند سابق وزیراعظم عمران خان کی پاکستان تحریک ِ انصاف(پی ٹی آئی) کے تائیدی آزاد امیدواروں نے قومی اسمبلی میں 101 نشستیں جیت کر چونکا دیا۔ اس گروپ کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کا نمبر ہے جسے 73 نشستیں حاصل ہوئیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے حصہ میں 54 اورمتحدہ قومی موومنٹ کے حصہ میں 17 نشستیں آئیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 265 کے منجملہ 255 نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا۔ قومی اسمبلی(پاکستانی پارلیمنٹ) میں تشکیل ِ حکومت کے لئے کسی بھی جماعت کے پاس 133 نشستیں ہونی چاہئیں۔ 71 سالہ عمران خان نے ہفتہ کے دن مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بنائے گئے آڈیو ویڈیو پیام میں عام انتخابات میں جیت کا دعویٰ کیا۔

انہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کے لئے عوام کا شکریہ ادا کیا اور عوام سے گزارش کی کہ وہ اپنے ووٹوں کا تقدس یقینی بنائیں۔ وہ اپنے ووٹوں کو اسٹابلشمنٹ کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے نہ دیں۔پی ٹی آئی کے سنٹرل انفارمیشن سکریٹری رؤف حسن نے کہا کہ ان کی پارٹی مستقبل کا لائحہ عمل طئے کرنے صلاح و مشورہ شروع کرچکی ہے۔

74 سالہ نواز شریف نے جو 3 مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہے اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ ہیں‘ اشارہ دیا کہ وہ آزاد امیدواروں سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جاسکے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لئے کوشاں ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اور ان کے والد آصف علی زرداری نے نواز شریف اور شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ میٹنگس کیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ایک قائد نے ہفتہ کے دن کہا کہ یہ دو جماعتیں چھوٹی جماعتوں کی تائید سے آسانی سے حکومت بناسکتی ہیں۔

شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام فضل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور ایم کیو ایم سربراہ خالد مقبول صدیقی کو فون کیا اور مخلوط حکومت بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی میں اصل جھگڑا یہ ہے کہ وزیراعظم کون بنے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ ان کی پارٹی‘ نواز شریف کو قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری امیدوارِ وزارت ِ عظمیٰ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کا نام آگے چل رہا ہے۔ انہیں فوجی اسٹابلشمنٹ بھی پسند کرتی ہے۔