بی جے پی تلنگانہ صدر رام چندر راؤ کا کالیشورم معاملے پر کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان گٹھ جوڑ کا الزام
نامپلی میں واقع بی جے پی کے ریاستی دفتر میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی یوم پیدائش کے موقع پر ان کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رام چندر راؤ نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے کالیشورم پروجیکٹ کو ’’اے ٹی ایم‘‘ بنا دیا تھا اور اس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی گئی۔
حیدرآباد: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) تلنگانہ کے صدر این رام چندر راؤ نے پیر کے روز الزام عائد کیا کہ کالیشورم لفٹ ایریگیشن پروجیکٹ میں مبینہ بدعنوانی کے معاملے پر کانگریس حکومت اور بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) سیاسی ڈرامہ کر رہی ہیں اور اس معاملے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
نامپلی میں واقع بی جے پی کے ریاستی دفتر میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی یوم پیدائش کے موقع پر ان کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رام چندر راؤ نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے کالیشورم پروجیکٹ کو ’’اے ٹی ایم‘‘ بنا دیا تھا اور اس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی گئی۔
انہوں نے کانگریس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کی تکنیکی جانچ میں ڈیم کی حفاظت سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کے باوجود حکومت نے مرمت کا کام شروع نہیں کیا۔
رام چندر راؤ نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر بھی الزام لگایا کہ انہوں نے مبینہ بدعنوانی کے اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے صرف چند افسران کے خلاف علامتی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس اور بی آر ایس اس معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی ہیں اور وزیر اعلیٰ کے اس معاملے پر ’’نرم رویہ‘‘ اختیار کرنے کی وجہ بھی پوچھ لی۔
بی جے پی رہنما نے حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ ایسیٹس پروٹیکشن ایجنسی (ہائیڈرا) کی کارروائیوں کو بھی نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ انہدامی مہم میں امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہائیڈرا غریبوں کے مکانات تو منہدم کر رہی ہے، لیکن آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) سے وابستہ مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہی۔
فاطمہ تعلیمی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے رام چندر راؤ نے دعویٰ کیا کہ ان اداروں کے پاس ضروری اجازت نامے موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہونے کے باوجود ان عمارتوں کے خلاف کوئی انہدامی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس حکومت اور ایم آئی ایم کے تعلقات ہی اس منتخب کارروائی کی وجہ ہیں اور سوال اٹھایا کہ کیا ہائیڈرا صرف غریبوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے؟
انہوں نے کہا کہ انصاف کے مختلف طبقات کے لیے الگ الگ معیار نہیں ہونے چاہئیں، اور مطالبہ کیا کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر تمام غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ بصورت دیگر، انہوں نے خبردار کیا کہ بی جے پی کانگریس حکومت، ایم آئی ایم اور ہائیڈرا کے مبینہ جانبدارانہ طرز عمل کے خلاف ریاست بھر میں عوامی احتجاج شروع کرے گی۔یواین آئی ظا