مشرآباد میں 30 مسلم ووٹروں کے نام حذف کرانے کی مبینہ کوشش، بی جے پی( بی ایل اے) پر ایف آئی آر
پولیس اور انتخابی حکام کے مطابق، بال چندر نے 28 ستمبر 2026 کو پولنگ اسٹیشن نمبر 210 پر 30 ڈیجیٹل طور پر پہلے سے پرنٹ کیے گئے فارم-7 جمع کرانے کی کوشش کی۔ ان فارموں پر مبینہ طور پر متعلقہ ووٹروں کے نام پہلے ہی درج تھے اور انہیں ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے کی درخواست کے طور پر پیش کیا گیا تھا
حیدرآباد : حیدرآباد کے مشرآباد اسمبلی حلقہ میں ووٹر فہرست سے 30 مسلم ووٹروں کے نام حذف کرانے کے لیے مبینہ طور پر فارم-7 کے غلط استعمال کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں چکڑپلی پولیس نے بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹ (BLA) ایس. بال چندر کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ مقدمہ مشرآباد اسمبلی حلقہ کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) ٹی. پروین کمار ریڈی کی شکایت پر 6 اکتوبر کو درج کیا گیا۔
پولیس اور انتخابی حکام کے مطابق، بال چندر نے 28 ستمبر 2026 کو پولنگ اسٹیشن نمبر 210 پر 30 ڈیجیٹل طور پر پہلے سے پرنٹ کیے گئے فارم-7 جمع کرانے کی کوشش کی۔ ان فارموں پر مبینہ طور پر متعلقہ ووٹروں کے نام پہلے ہی درج تھے اور انہیں ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے کی درخواست کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق بوتھ لیول آفیسر (BLO) اور پولنگ اسٹیشن سپروائزر نے بڑی تعداد میں فارم-7 ایک ساتھ وصول کرنے سے انکار کردیا اور کوئی رسید بھی جاری نہیں کی۔ الزام ہے کہ بار بار درخواست کے باوجود فارم قبول نہ کیے جانے پر بال چندرنے فارم پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں چھوڑ کر چلے گئے۔
اس کے بعد انتخابی حکام نے معاملے کی جانچ شروع کی۔ 30 ستمبر کو BLO اور BLO سپروائزر نے فیلڈ ویریفکیشن کی، جبکہ یکم اکتوبر کو اسسٹنٹ ERO اور ERO نے بھی تمام 30 ووٹروں کی موجودگی اور رہائش کی تصدیق کی۔ حکام کے مطابق تمام 30 ووٹر اپنے انتخابی ریکارڈ میں درج پتوں پر مقیم پائے گئے۔ ان میں سے 14 ووٹر ایک پتے پر اور 16 دوسرے پتے پر رجسٹرڈ تھے۔
انتخابی حکام نے اپنی جانچ کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ مذکورہ فارم-7 درخواستیں قابل قبول نہیں ہیں اور انہیں مسترد کیا جانا چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق ان 30 ووٹروں میں ایک کانگریس بوتھ لیول ایجنٹ شفیع الدین بھی شامل ہیں۔
پولیس نے بال چندر کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 217 اور 318(2) اور Representation of the People Act, 1950 کی دفعہ 31 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ دفعہ 217 سرکاری عہدیدار کو غلط معلومات فراہم کرنے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 318(2) دھوکہ دہی سے متعلق ہے۔ دفعہ 31 انتخابی معاملات میں غلط بیان یا اعلان سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ تلنگانہ میں جاری Special Intensive Revision (SIR) کے دوران فارم-7 کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق سامنے آنے والا پہلا پولیس کیس بتایا جا رہا ہے۔ حکام دیگر مقامات پر بھی ایسے پہلے سے پرنٹ شدہ فارموں کی شکایات کی جانچ کر رہے ہیں۔ تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سی. سدرشن ریڈی نے بھی انتخابی حکام کو ہدایت دی ہے کہ فارم-6، 6A، 7 یا 8 میں جان بوجھ کر غلط معلومات یا اعلانات جمع کرانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب، بی جے پی نے پارٹی کی جانب سے منظم طور پر ووٹ حذف کرانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے میں شواہد کو قانونی عمل کے ذریعے سامنے لایا جانا چاہیے۔ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ فارم کس نے تیار کیے، ووٹر ڈیٹا کہاں سے حاصل کیا گیا اور آیا اس معاملے میں مزید افراد ملوث ہیں یا نہیں۔