آندھراپردیش

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ نے ویلی گونڈا منصوبے کے پہلے مرحلے کا افتتاح کرکے پانی جاری کیا-

پہلے مرحلے کے تحت 10.70 ٹی ایم سی پانی نلا ملا ساگر ذخیرے میں منتقل کیا جائے گا، جس سے 1.19 لاکھ ایکڑ اراضی کو آبپاشی کی سہولت فراہم ہوگی اور تقریباً چار لاکھ افراد کو پینے کا پانی دستیاب ہوگا

اونگول : آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو نے پیر کے روز متحدہ پرکاشم ضلع کے دورنال منڈل کے گنٹاوانی پلی گاؤں میں فیڈر کینال سے پانی جاری کرکے پی ایس ویلی گونڈا آبپاشی منصوبے کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا اور اسے عوام کے نام وقف کردیا۔
وزیر اعلیٰ نے کرسٹ گیٹس کھول کر پانی جاری کیا اور کرشنا ندی کی پوجا اور جل آرتی کی۔ انہوں نے مقامی کسانوں کی موجودگی میں ایک پائلن کی نقاب کشائی کی اور کرسٹ گیٹس کا بٹن دبا کر افتتاحی کارروائی مکمل کی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب وہ متحدہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ تھے تو انہوں نے 5 مارچ 1996 کو پی ایس ویلی گونڈا منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور آج اس کے پہلے مرحلے کا افتتاح بھی کیا۔

ویلی گونڈا منصوبے کی تخمینی لاگت 10,200 کروڑ روپے ہے، جبکہ پہلے مرحلے کی تکمیل پر اب تک 7,983 کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ نلا ملا پہاڑیوں کے نیچے 18.8 کلومیٹر طویل دو سرنگیں تعمیر کی گئی ہیں۔ یہ متوازی سرنگیں سری سیلم ذخیرۂ آب سے کرشنا ندی کا پانی نلا ملا ساگر ذخیرۂ آب تک پہنچانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
پہلے مرحلے کے تحت 10.70 ٹی ایم سی پانی نلا ملا ساگر ذخیرے میں منتقل کیا جائے گا، جس سے 1.19 لاکھ ایکڑ اراضی کو آبپاشی کی سہولت فراہم ہوگی اور تقریباً چار لاکھ افراد کو پینے کا پانی دستیاب ہوگا۔ ویلی گونڈا منصوبہ مکمل ہونے کے بعد متحدہ کڑپہ، نیلور اور پرکاشم اضلاع میں 4.47 لاکھ ایکڑ اراضی کو آبپاشی اور تقریباً 23 لاکھ افراد کو پینے کا پانی فراہم کیا جاسکے گا۔

اس موقع پر منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ویلی گونڈا منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے ساتھ کلورائڈ کی زیادتی کے مسئلے کو ختم کیا جائے گا اور متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو محفوظ پینے کا پانی فراہم ہوگا۔
انہوں نے پینوگونڈا منصوبے کے دوسرے مرحلے کو 2028 تک مکمل کرنے کا یقین دلایا۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ 48 دن کے دوران 6,206 بے گھر خاندانوں کو 768 کروڑ روپے بطور معاوضہ ادا کیے گئے، جبکہ مالی مشکلات کے باوجود ان خاندانوں کے لیے مزید 169 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

نائیڈو نے مارکاپور ضلع کو ایک لاکھ کروڑ روپے کے رائل سیما ہارٹیکلچر ہب میں شامل کرنے اور رامایاپٹنم بندرگاہ کی تکمیل کا بھی وعدہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’میں انتخابات یا سیاسی فائدے کے لیے کام نہیں کروں گا بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کروں گا۔ میرا مقصد خوشحال اور صحت مند ’سورن آندھرا پردیش‘ بنانا ہے۔‘‘