تعلیم و روزگار

پہلی تا نویں جماعت تک ایکسٹرنل جانچ کے احکامات واپس لینے کا ٹی ایس پی ٹی اے کا مطالبہ

ریاستی سب کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید شوکت علی نے کہا کہ یہ فیصلہ محکمۂ تعلیم کی تاریخ کا انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام ہے

حیدرآباد : تلنگانہ اسٹیٹ پرائمری ٹیچرز اسوسی ایشن (TSPTA) کے ریاستی صدر سید شوکت علی نے حکومتِ تلنگانہ کے محکمۂ تعلیمات سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلی سے نویں جماعت تک ایکسٹرنل جانچ (External Evaluation) کے نفاذ سے متعلق جاری کردہ احکامات کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

اتوار کی شب حیدرآباد میں تنظیم کے ریاستی دفتر میں منعقدہ ہنگامی ریاستی سب کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید شوکت علی نے کہا کہ یہ فیصلہ محکمۂ تعلیم کی تاریخ کا انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقِ تعلیم قانون (RTE) اور مسلسل و جامع جانچ (CCE) کے بنیادی مقاصد کو نظرانداز کرتے ہوئے عجلت میں یہ فیصلہ کیا گیا، جس پر ماہرینِ تعلیم شدید حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے سرکاری پرائمری و اپر پرائمری مدارس پہلے ہی اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کے فقدان، تدریسی مشکلات اور غیر معمولی کام کے بوجھ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ایکسٹرنل جانچ کا اضافی نظام اساتذہ پر مزید دباؤ ڈالے گا اور تدریسی عمل متاثر ہوگا۔

سید شوکت علی نے واضح کیا کہ حقِ تعلیم قانون کے تحت پہلی سے نویں جماعت تک نان ڈیٹینشن پالیسی نافذ ہے اور اسی کے مطابق CCE نظام پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایس اے–1 اور ایس اے–2 امتحانات کے جوابی پرچوں کی منڈل سطح پر تیسرے فریق کے ذریعے جانچ CCE کے اصولوں کے منافی ہے اور اس سے تعلیمی معیار بہتر ہونے کے بجائے نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں ساتویں جماعت کے بورڈ امتحانات غیر ضروری مالی و انتظامی بوجھ کے باعث ختم کئے گئے تھے، مگر اب اسی طرز پر دوبارہ ایکسٹرنل جانچ متعارف کرانا ناقابلِ جواز ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس پالیسی کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔

اجلاس میں ریاستی جنرل سکریٹری آر روہیت نائیک، اسوسی ایٹ صدر پی سدھارانی، آر منگا، ڈاکٹر ساجد معراج، نائب صدور رام کرشنا، غلام احمد، شیخ شبیر علی، اے نارائن ریڈی، سید یحییٰ، این رام لنگم، ایس نرملا، ڈی راج مولی، اے نریندر اور بی جیا سمیت دیگر قائدین شریک تھے۔