تلنگانہحیدرآباد

تلنگانہ میں 18 لاکھ ووٹرس کے نام حتمی فہرست سے خارج ہونے کا خدشہ!

تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے دوران تقریباً 18 لاکھ 12 ہزار ووٹرس کے نام حتمی فہرست سے خارج ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ وہ ووٹرس ہیں جنہیں الیکشن حکام کی جانب سے نوٹس جاری کیے گئے، لیکن متعدد مرتبہ یاد دہانی اور بوتھ لیول افسران کی جانب سے گھروں پر پہنچنے کے باوجود انہوں نے ابھی تک جواب نہیں دیا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے دوران تقریباً 18 لاکھ 12 ہزار ووٹرس کے نام حتمی فہرست سے خارج ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ وہ ووٹرس ہیں جنہیں الیکشن حکام کی جانب سے نوٹس جاری کیے گئے، لیکن متعدد مرتبہ یاد دہانی اور بوتھ لیول افسران کی جانب سے گھروں پر پہنچنے کے باوجود انہوں نے ابھی تک جواب نہیں دیا ہے۔

چیف الیکٹورل آفس تلنگانہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی کے عمل کے دوران مجموعی طور پر 92 لاکھ 88 ہزار 187 نوٹس جاری کیے گئے، جن میں سے 92 لاکھ 23 ہزار 486 نوٹس متعلقہ ووٹرس تک پہنچائے جاچکے ہیں، جبکہ 64 ہزار 701 نوٹس کی اجرائی ابھی باقی ہے۔

حکام کے مطابق اب تک 82 لاکھ 11 ہزار 205 ووٹرس کی سماعت کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے 74 لاکھ 62 ہزار 851 ووٹرس کو حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے کا اہل قرار دیا گیا ہے، جبکہ 12 ہزار 969 ووٹرس کو نااہل پایا گیا ہے اور ان کے نام حتمی فہرست میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔ دوسری جانب 18 لاکھ 12 ہزار 367 ووٹرس ایسے ہیں جنہوں نے نوٹس ملنے کے باوجود اب تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ان ووٹرس کے ناموں کے حتمی فہرست سے خارج ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس عمل کے دوران بعض نئے اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت عام حالات میں ووٹرس کی دستاویزات حاصل کرنے کے لیے بوتھ لیول افسران کے گھر گھر جانے اور بالمشافہ سماعت کے عمل کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے بجائے، جہاں ممکن ہو، سماعت آن لائن یا رابطے کے دیگر آسان ذرائع سے کی جائے گی۔ تاہم، الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر یا اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کی جانب سے ضروری سمجھے جانے والے معاملات میں مختلف طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سی سدھرشن ریڈی نے کہا ہے کہ جو ووٹرس جاری کردہ نوٹس کا جواب نہیں دیں گے، انہیں غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ یا دوہری ووٹنگ کے زمرے میں شامل کیا جاسکتا ہے، جسے اے ایس ڈی ڈی کہا جاتا ہے، اور ایسے ووٹرس کے نام حتمی فہرست سے خارج کردیے جائیں گے۔ ان کے مطابق بوتھ لیول افسران گھر گھر پہنچ کر اس عمل کو مکمل کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی اہل ووٹر کسی وجہ سے فہرست میں شامل ہونے سے رہ جاتا ہے تو وہ دوبارہ اپنے نام کے اندراج کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ خصوصی گہری نظرثانی کا عمل شروع ہونے سے قبل تلنگانہ میں ووٹرس کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 38 لاکھ 26 ہزار 448 تھی، جن میں سے 2 کروڑ 64 لاکھ 87 ہزار 213 ووٹرس نے اپنے انومیریشن فارم جمع کرائے تھے۔ اس کے بعد 73 لاکھ 39 ہزار 235 ووٹرس کو غیر حاضر، دوسرے مقام پر منتقل ہونے، فوت ہونے یا دوہری انٹری کے زمرے میں رکھتے ہوئے پہلے ہی مسودہ ووٹر لسٹ سے خارج کیا جاچکا ہے۔

نظرثانی کے ترمیم شدہ شیڈول کے مطابق نوٹس، دعوؤں اور اعتراضات کی سماعت اور ان کے تصفیے کا عمل 5 نومبر کو مکمل ہوگا، جبکہ تلنگانہ کی حتمی ووٹر لسٹ 9 نومبر کو جاری کی جائے گی۔ ایسے میں متعلقہ ووٹرس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے نام اور ووٹر تفصیلات کی جانچ کریں اور اگر انہیں نوٹس موصول ہوا ہے تو مقررہ طریقہ کار کے مطابق جواب داخل کریں، تاکہ ان کے ووٹ کے حق پر اثر پڑنے سے بچا جاسکے۔