تلنگانہ

بی جے پی ہمیشہ مخالف کسان پالیسی اختیار کرتی ہے:جیون ریڈی

حلقہ لوک سبھا نظام آباد کے کانگریس امیدوار ٹی جیون ریڈی نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ بی جے پی ہمیشہ سے ہی مخالف کسان پالیسی اختیار کرتی ہے۔

حیدرآباد: حلقہ لوک سبھا نظام آباد کے کانگریس امیدوار ٹی جیون ریڈی نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ بی جے پی ہمیشہ سے ہی مخالف کسان پالیسی اختیار کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں
آخر پاکستان پر بات کیوں ہورہی ہے جب انتخابات ہندوستان میں ہورہے ہیں:پرینکا
ماہ صیام کا آغاز، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اعلان
تلنگانہ میں ٹی ایس کے بجائے ٹی جی استعمال کی ہدایت، احکام جاری
بی جے پی اور کانگریس دونوں ریزرویشن مخالف : مایاوتی
بی جے پی جیتنے پر ریزرویشن ختم کر دے گی: اے اے پی

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ کانگریس کی جانب سے پہلی مرتبہ کسانوں کے قرضہ جات معاف نہیں کئے گئے۔

قبل ازیں بھی 2008میں مرکز میں یوپی اے کے دور میں کسانوں کے قرضہ جات کانگریس حکومت نے معاف کئے تھے۔

اس وقت ایک لاکھ روپئے تک کے کسانوں کے قرضہ جات معاف کئے گئے تھے تاہم اس مرتبہ تلنگانہ کی کانگریس حکومت کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات جاریہ سال 15اگست تک معاف کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا ”ہم کسانوں کو مفت بجلی دے رہے ہیں جب کہ دوسرے مقامات پر جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے، وہ کسانوں کو مفت بجلی فراہم نہیں کررہی ہے۔

بی جے پی پوری طرح کسان مخالف ہے۔ کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کی جب بات کی جاتی ہے تو بی جے پی کے لیڈران یہ کہتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہے جبکہ سرکردہ صنعت کاروں امبانی اور اڈانی کے لاکھوں کروڑروپئے کے قرضہ جات معاف کئے جاتے ہیں۔

گذشتہ مرتبہ اس لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی کے امیدوار دھرماپوری اروند نے ہلدی بورڈ کے قیام اور شوگرفیکٹری کے احیا کے وعدوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔

ہلدی بورڈ کے قیام کے سلسلہ میں انہوں نے بانڈ پیپر پر لکھتے ہوئے دستخط کئے تھے اور وعدہ کیاتھا اپنے انتخاب کے اندرون پانچ دن وہ ہلدی بورڈ کا قیام عمل میں لائیں گے تاہم 5برس گذرگئے اور ہلدی بورڈ کا قیام عمل میں نہیں لایاگیا۔

شوگرفیکٹری کے احیا کے بارے میں بھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیاہے۔اب ریاست میں کانگریس برسراقتدارآئی۔کانگریس پارٹی نہ صرف یقین دہانی کروارہی ہے بلکہ اس نے 2025تک شوگر فیکٹر ی کے احیا کا پروگرام تیار کیا ہے۔

سال 2014سے 2018تک تلنگانہ میں سب سے ناکام رکن پارلیمنٹ کویتا تھیں۔2019سے 2024تک سب سے ناکام رکن پارلیمنٹ ڈی اروند رہے ہیں“۔