مانسون کے دوران کیرالہ میں وائرل بخار، ڈینگی اور آبی بیماریوں کے معاملات میں اضافہ
قومی ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد پروگرام کے مشیر اور ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر نریش پروہت نے بتایا کہ یکم جون سے پندرہ جولائی دو ہزار چھبیس کے درمیان ڈینگی کے 3742 معاملات سامنے آئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 30120 تھی۔ ڈینگی سے ہونے والی اموات کی تعداد دونوں برسوں میں نو، نو رہی۔
ترواننت پورم: مانسون کی آمد کے بعد کیرالہ میں وائرل بخار، مچھروں سے پھیلنے والی اور آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے معاملات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ریاستی محکمۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں وائرل بخار کے مریضوں میں انیس فیصد، ڈینگی کے معاملات میں تقریباً بیس فیصد اور اسہال کے مریضوں میں اڑتیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد پروگرام کے مشیر اور ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر نریش پروہت نے بتایا کہ یکم جون سے پندرہ جولائی دو ہزار چھبیس کے درمیان ڈینگی کے 3742 معاملات سامنے آئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 30120 تھی۔ ڈینگی سے ہونے والی اموات کی تعداد دونوں برسوں میں نو، نو رہی۔
انہوں نے بتایا کہ وائرل بخار کے علاج کے لیے اسپتال پہنچنے والے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ کر 4,78,988 ہو گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 4,00,326 تھی۔
اسی طرح اسہال کے مریضوں کی تعداد 90,379 سے بڑھ کر 1,24,833 ہو گئی، جبکہ انفلوئنزا کے معاملات میں تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ڈاکٹر پروہت کے مطابق شیگیلا جراثیم سے ہونے والے انفیکشن کے معاملات میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے برعکس لیپٹوسپائروسس، جسے عام طور پر چوہا بخار بھی کہا جاتا ہے، اور ہیپاٹائٹس اے کے معاملات اور ان سے ہونے والی اموات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔