حیدرآباد میں ڈیری یونٹس کے خلاف فوڈ سیفٹی کا بڑا آپریشن، ₹7.19 لاکھ کی اشیاء ضبط
تلنگانہ میں فوڈ سیفٹی حکام اور حیدرآباد پولیس نے ملاوٹ اور غیر حفظانِ صحت طریقوں کے خلاف خصوصی مہم کے تحت حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں پنیر اور دیگر ڈیری مصنوعات تیار کرنے اور فروخت کرنے والے 14 یونٹس کا معائنہ کیا۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں فوڈ سیفٹی حکام اور حیدرآباد پولیس نے ملاوٹ اور غیر حفظانِ صحت طریقوں کے خلاف خصوصی مہم کے تحت حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں پنیر اور دیگر ڈیری مصنوعات تیار کرنے اور فروخت کرنے والے 14 یونٹس کا معائنہ کیا۔
یہ کارروائی تلنگانہ اسٹینڈرڈز اتھارٹی فار فوڈ اینڈ ایسینشل ڈرگس (TG-SAFE) کی 12 ٹیموں نے انجام دی، جن میں فوڈ سیفٹی افسران اور پولیس اہلکار شامل تھے۔ کارروائی میں حیدرآباد سٹی پولیس کے H-FAST افسران نے بھی حصہ لیا۔
حکام کے مطابق بعض یونٹس میں پنیر کی تیاری کے دوران مبینہ طور پر لوز پام آئل اور گلیسرول مونو اسٹیریٹ کی موجودگی پائی گئی۔ بعض مقامات پر کاکروچ اور مکھیوں کی موجودگی، صفائی و حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات اور دودھ کی خریداری سے متعلق مناسب ریکارڈ کی عدم موجودگی بھی سامنے آئی۔
معائنوں کے دوران ملاوٹ کے شبہ اور معیار سے متعلق خدشات کے پیش نظر 21 فوڈ سیمپلز حاصل کیے گئے۔
حکام نے مجموعی طور پر تقریباً 7 لاکھ 19 ہزار 340 روپے مالیت کی اشیاء ضبط کیں، جن میں:
- ایک ٹن پام آئل
- 476 کلوگرام گلیسرول مونو اسٹیریٹ
- Mavee’s Classic Premium Cooking Cream کے 1,760 پیکٹس
- 150 کلوگرام اسکِمڈ ملک پاؤڈر
شامل ہیں۔
فوڈ سیفٹی حکام کے مطابق بعض یونٹس میں پنیر کی تیاری میں گلیسرول مونو اسٹیریٹ کے مبینہ غیر مجاز استعمال کا شبہ ہے، جبکہ کوکنگ کریم کے پیکٹس مبینہ گمراہ کن دعووں یا اشتہارات کی بنیاد پر ضبط کیے گئے۔ اسکِمڈ ملک پاؤڈر بھی معیار سے متعلق شبہ کی بنیاد پر قبضے میں لیا گیا۔
حکام نے خانپور، ابراہیم پٹنم کے سری مہالکشمی کیندر اور حیات نگر کی انیتا ڈیری کو خامیوں کی اصلاح کے لیے امپروومنٹ نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی طرح نادرگل کی گیتا ڈیری اور نارمل (مدر ڈیری) کو مبینہ خلاف ورزیوں پر شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں گے اور مزید کارروائی کے ساتھ جرمانے عائد کیے جانے کی توقع ہے۔
دوسری جانب عوامی صحت کے مفاد میں تین ڈیری یونٹس کے FSSAI لائسنس معطل کرتے ہوئے فوری طور پر کاروباری سرگرمیاں روکنے کی ہدایت دی گئی۔
گگن پہاڑ کی لکشمی فوڈز میں مبینہ طور پر کاکروچ کی بھرمار، دودھ کے برتنوں کی ناقص صفائی، غیر مناسب اسٹوریج، 600 لیٹر لوز پام آئل اور پنیر کی تیاری میں گلیسرول مونو اسٹیریٹ کے غیر مجاز استعمال کی نشاندہی کی گئی۔
میلاردیوپلی، راجندر نگر کی دھنالکشمی ڈیری پروڈکٹس میں بند نالیاں، بدبو، مکھیوں کی موجودگی اور فوڈ ہینڈلرز کی ناقص ذاتی صفائی سمیت انتہائی غیر صحت بخش حالات پائے گئے۔ یہاں سے 195 لیٹر لوز پام آئل اور مبینہ غیر مجاز گلیسرول مونو اسٹیریٹ بھی پایا گیا۔
اسی طرح ناتر اج ملک اینڈ ملک فوڈ پروڈکٹس کے خلاف بھی کارروائی کی گئی، جہاں حکام نے زنگ آلود ایسبسٹوس شیٹس، نمی، کائی اور پھپھوندی کی موجودگی کے علاوہ پنیر کی تیاری میں گلیسرول مونو اسٹیریٹ کے مبینہ غیر مجاز استعمال کی نشاندہی کی۔
فوڈ سیفٹی حکام کے مطابق ضبط کیے گئے نمونوں کی لیبارٹری جانچ کے نتائج کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔