سہارنپور کلکٹریٹ مسجد انہدام پر اسد الدین اویسی کا شدید ردِعمل
Limitation Act عام طور پر حکومت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ غیر معینہ مدت تک خاموش رہے اور پھر ایک دن اچانک بیدار ہوکر کسی غیر منقولہ جائیداد پر اپنا قبضہ ظاہر کرے
حیدرآباد : اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اترپردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ کمپلیکس کے اندر موجود مسجد کو منہدم کیے جانے پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا مذہبی آزادی اب بھی مسلمانوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے؟
اویسی نے دعویٰ کیا کہ مسجد کے وجود کے حوالے سے 1911 تک کے ریکارڈ موجود ہیں اور وہاں ایک صدی سے زائد عرصے سے مسلسل نماز ادا کیے جانے کی وجہ سے اسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔
تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ عمارت سرکاری اراضی پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی۔
یہ انہدام اس وقت عمل میں آیا جب ضلع جج کی عدالت نے سٹی مجسٹریٹ کے بے دخلی کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے مسجد کمیٹی کی اپیل مسترد کردی
کیا اب مسلمانوں کے لیے آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی ضمانت نافذ نہیں رہی؟ آخر ایسا کیوں ہے کہ ہمارے عبادت گاہوں کو معمولی اور کمزور بنیادوں پر بار بار بلڈوزر سے منہدم کیا جاتا ہے؟
Limitation Act عام طور پر حکومت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ غیر معینہ مدت تک خاموش رہے اور پھر ایک دن اچانک بیدار ہوکر کسی غیر منقولہ جائیداد پر اپنا قبضہ ظاہر کرے۔
کیا یہاں ایک صدی سے زائد عرصے تک کھلا، مسلسل اور عوامی قبضہ نہیں رہا؟ ریاست یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ یہ قبضہ کل ہی شروع ہوا تھا۔ لہٰذا اگر ریاست کے دلائل کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو دعوائے قبضہ (Adverse Possession) کا اصول پھر بھی لاگو ہوگا۔
مسجد پہلے بنی تھی، کلکٹریٹ بعد میں قائم ہوا۔
کچھ لوگوں کے لیے شاید مسجد کا محض نظر آنا ہی تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ یہ ان کا مسئلہ ہے، ہمارا نہیں۔ اگر ضروری سمجھیں تو نظریں پھیر لیں، لیکن صرف اپنی بے چینی کی وجہ سے آپ ہماری مسجد کو بلڈوزر سے منہدم نہیں کرسکتے