تلنگانہ

ٹیچرس ڈے پر کانگریس رکن اسمبلی کے متنازعہ ریمارکس، تدریسی پیشے پر سوال اٹھانے کا الزام

کانگریس رکن اسمبلی نے خود کو ڈاکٹر قرار دیتے ہوئے سابق رکن اسمبلی سے سوال کیا کہ انہوں نے بطور استاد کیا خدمات انجام دیں۔ ان کے مبینہ ریمارکس میں ذاتی نوعیت کے الزامات بھی شامل تھے، جہاں انہوں نے رسامائی بالکشن کے مکان اور مالی حیثیت پر سوال اٹھایا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے مناکونڈور سے کانگریس رکن اسمبلی کوّام پلی ستیہ نارائنا کے سابق رکن اسمبلی رسامائی بالکشن کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریمارکس نے سیاسی حلقوں میں تنازعہ پیدا کردیا ہے۔

ٹیچرس ڈے کے موقع پر دیے گئے اپنے بیان میں کوّام پلی ستیہ نارائنا نے رسامائی بالکشن کے سابق پیشے کو نشانہ بناتے ہوئے مبینہ طور پر کہا کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا، صرف ’’احمق استاد‘‘ کی ملازمت کی۔

کانگریس رکن اسمبلی نے خود کو ڈاکٹر قرار دیتے ہوئے سابق رکن اسمبلی سے سوال کیا کہ انہوں نے بطور استاد کیا خدمات انجام دیں۔ ان کے مبینہ ریمارکس میں ذاتی نوعیت کے الزامات بھی شامل تھے، جہاں انہوں نے رسامائی بالکشن کے مکان اور مالی حیثیت پر سوال اٹھایا۔

کوّام پلی نے مبینہ طور پر کہا، ’’آپ پیسے مانگنے کے لیے ناچتے اور گاتے تھے، پھر آپ کے پاس اتنا بڑا مکان کیسے آیا؟‘‘

یہ ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے جب ملک بھر میں یومِ اساتذہ منایا جا رہا تھا اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا تھا۔ ایسے میں تدریسی پیشے کے حوالے سے مبینہ توہین آمیز الفاظ پر مختلف حلقوں کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

رسامائی بالکشن مناکونڈور کے سابق رکن اسمبلی اور بی آر ایس کے رہنما ہیں۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ تدریس اور ثقافتی سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں۔

کوّام پلی ستیہ نارائنا کے ان ریمارکس نے کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان جاری سیاسی اختلافات کے پس منظر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ تاہم، ان ریمارکس پر رسامائی بالکشن یا کانگریس کی جانب سے مزید وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔