سوشیل میڈیاقومی

سی جے پی رضاکار محمد جنید کو پولیس کی ہراسانی، غازی آباد میں ارکان خاندان زیرحراست۔ بینک پاس بکس ضبط (ویڈیو)

غازی آباد کے ایک شہری نے جو کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) کے جاریہ احتجاج کے دوران رضاکارانہ خدمات انجام دے رہا ہے‘ الزام عائد کیا کہ پولیس نے غازی آباد میں اس کے ارکان ِ خاندان کو حراست میں لے لیا اور میرٹھ میں اس کے رشتہ داروں کو ہراساں کیا۔

لکھنو/ میرٹھ (پی ٹی آئی) غازی آباد کے ایک شہری نے جو کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) کے جاریہ احتجاج کے دوران رضاکارانہ خدمات انجام دے رہا ہے‘ الزام عائد کیا کہ پولیس نے غازی آباد میں اس کے ارکان ِ خاندان کو حراست میں لے لیا اور میرٹھ میں اس کے رشتہ داروں کو ہراساں کیا۔

احتجاجیوں کو غذا اور پیانی فراہم کرنے والے والنٹیر محمد جنید نے جمعہ کے دن جنترمنتر پر میڈیا کو بتایا کہ یوپی پولیس اس کے ارکان ِ خاندان کو پکڑکر لے گئی ہے۔ اس نے اس کے مکان پر چھاپہ مارا اور اس کے ارکان ِ خاندان کے بینک پاس بک اور پیان کارڈ ضبط کرلئے۔ میرٹھ پولیس نے تاہم اس الزام کی تردید کی۔

جنید کی فیملی کے بموجب غازی آباد کے مسوری پولیس اسٹیشن کی ٹیم جمعرات کی شام موضع ناہل میں ان کے گھر آئی اور اس نے تلاشی لی۔ جنید کے باپ مصطفی کو پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔ ارکان ِ خاندان کے بینک پاس بک اور پیان کارڈ بھی پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔ جنید کی بہن نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے اس سے کہا کہ وہ کال کرکے اپنے باپ کو گھر آنے کے لئے کہے۔

جنید نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پولیس نے متصل ضلع میرٹھ میں اس کے رشتہ داروں کو پریشان کیا۔ ایس ایس پی اویناش پیانڈے نے ہفتہ کے دن کہاکہ ایسا کوئی معاملہ میرے علم میں نہیں آیا۔ ایس پی(سٹی) ونائک گوپال بھونسلے نے کہا کہ میرٹھ پولیس نے تمام پولیس اسٹیشن انچارجس سے دریافت کیا۔ پتہ چلا کہ جنید کے خاندان کا کوئی بھی رکن زیرحراست نہیں ہے۔

اگر کسی اور ضلع کی پولیس نے کارروائی کی ہے تو تفصیلات اُس ضلع میں ہوں گی۔ غازی آباد کے پولیس عہدیداروں سے باربار کوشش کے باوجود رابطہ نہ ہوسکا۔ مبینہ پولیس کارروائی پر سخت سیاسی ردعمل سامنے آیا۔

سی جے پی کے ترجمان ِ اعلیٰ سوروداس نے اس کی مذمت کی۔ سماج وادی پارٹی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ مستقبل میں جب تاریخ لکھی جائے گی تو آمروں کا سیاہ ریکارڈ بڑے حروف میں لکھا جائے گا۔