سوشیل میڈیاقومی

مرکز کے ساتھ ”معاملت“ کا الزام مسترد۔ میں نے لداخ جیسے کریک ڈاؤن کے اندیشہ کے تحت بھوک ہڑتال ختم کی: سونم وانگ چک

جہدکار سونم وانگ چک نے مرکز کے ساتھ ”معاملت“ کے الزامات مسترد کردیئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال مرکز سے تحریری تیقن لینے کے بعد ہی ختم کی کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ دہلی میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن ہوکر رہے گا۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) جہدکار سونم وانگ چک نے مرکز کے ساتھ ”معاملت“ کے الزامات مسترد کردیئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال مرکز سے تحریری تیقن لینے کے بعد ہی ختم کی کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ دہلی میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن ہوکر رہے گا۔

انہوں نے لداخ میں 2025 میں نوجوانوں پر فائرنگ کی یاددہانی کرائی اور کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ طلبا کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی تشدد نہ ہو۔ جمعہ کی رات یو ٹیوب پر پوسٹ ویڈیو میں وانگ چک نے صفدر جنگ ہاسپٹل میں سیکوریٹی کے ساتھ ٹکراؤ کا فوٹیج بھی شیئر کیا۔ ویڈیو میں انہیں باربار یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ یا تو انہیں گرفتار کرلیا جائے یا دواخانہ سے جانے دیا جائے۔

وانگ چک نے کہا کہ انہوں نے مرکز کا یہ تحریری تیقن ملنے کے بعد ہی اپنا مرن برت ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ پرامن احتجاجیوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے بات چیت کے دوران وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ اس لئے نہیں کیا کہ ان کی ترجیح احتجاجیوں کو قانونی کارروائی سے بچانا تھی۔

انہوں نے اس الزام کو مسترد کردیا کہ انہوں نے حکومت سے سمجھوتہ کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ کل آدھی رات کے قریب مجھے بتایا گیا کہ وزرا تحریری تیقن دینے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ مجھے عجلت تھی کیونکہ دہلی کی صورتِ حال خراب تھی۔ بڑا کریک ڈاؤن ہوسکتا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ لداخ میں 24 ستمبر 2025 کو جو ہوا تھا کہیں ویسا ہی معاملہ دہلی میں نہ ہوجائے۔

مرکزی وزرا کی موجودگی میں ہڑتال ختم کرنے پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے وانگ چک نے کہاکہ جو لوگ میرے فیصلہ پر سوال اٹھارہے ہیں انہیں وہ حالات معلوم نہیں جن کا میں نے جنتر منتر سے منتقلی کے دوران سامنا کیا۔ اگر مجھے معاملت کرنی ہوتی تو میں 26 دن بھوکا کیوں رہتا؟ کیا میں دہلی کی گرمی میں بھوک ہڑتال کرنے کے بجائے ایرکنڈیشنڈ کمرہ میں بیٹھ کر معاملت نہ کرلیتا؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 18 جولائی کو صفدر جنگ ہاسپٹل لے جانے کے بعد ان کے ساتھ قیدی جیسا سلوک کیا گیا۔

انہیں لوگوں سے ملنے نہیں دیا گیا اور موبائل فون یا لیاپ ٹاپ بھی ساتھ رکھنے نہیں دیا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں جنوبی کوریا میں ہوں۔ دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے میدانتا ہاسپٹل منتقلی کی اجازت ملنے کے باوجود مجھے کئی گھنٹے صفدر جنگ ہاسپٹل سے جانے نہیں دیا گیا۔ ویڈیو میں وانگ چک کو سیکوریٹی سے اُلجھتے دیکھا جاسکتا ہے۔

وہ باربار کہہ رہے ہیں کہ یا تو مجھے گرفتار کرو یا جانے دو۔ تم لوگ مجھے ہراساں کررہے ہو۔ اگر تناؤ کی وجہ سے میری جان گئی تو اس کے ذمہ دار تم ہوگے۔ فوٹیج میں دیکھا جارہا ہے کہ ایک موبائل فون چھینا جارہا ہے جس کے بعد وانگ چک بطور احتجاج دواخانہ کے فرش پر بیٹھ گئے۔ ویڈیو کے ایک اور حصہ میں وانگ چک کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ تصویریں لو‘ دیکھتے ہیں کون تمہارا موبائل چھینتا ہے۔پس منظر میں یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ ہمیں درکار آرڈر ابھی تک نہیں ملا ہے۔

آپ کیوں آرڈر حاصل نہیں کرلیتے اس پر وانگ چک جواب دیتے ہیں کہ آرڈر ڈیجیٹل شکل میں ہر جگہ موجود ہے۔ تمہیں چھوڑکر ساری دنیا اس سے واقف ہے۔ وانگ چک نے کہاکہ انہوں نے یہ ویڈیوز پہلے اس لئے جاری نہیں کی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بعض بے بس پولیس عہدیداروں کی نوکری چلی جائے۔