حیدرآباد

تلنگانہ میں دسویں جماعت کے امتحانات کا آغاز

اس سال ریاست کے 11,547 اسکولوں سے تقریباً 5.09 لاکھ طلبہ امتحان دے رہے ہیں، جن کے لیے 2,650 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ 25 طلبہ کے لیے ایک انویجیلیٹر مقرر کرتے ہوئے مجموعی طور پر 28,100 نگران عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

حیدرآباد: ریاست بھر میں دسویں جماعت کے امتحانات  پُرامن ماحول میں شروع ہو گئے۔ یہ امتحانات جمعہ سے 4 اپریل تک جاری رہیں گے۔ روزانہ صبح 9:30 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک امتحانات منعقد کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس
نعتیہ کلام دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرتا ہے: سعداللہ خان سبیل

 اس سال ریاست کے 11,547 اسکولوں سے تقریباً 5.09 لاکھ طلبہ امتحان دے رہے ہیں، جن کے لیے 2,650 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ 25 طلبہ کے لیے ایک انویجیلیٹر مقرر کرتے ہوئے مجموعی طور پر 28,100 نگران عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ امتحانی مراکز میں سخت نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ پانچ منٹ تاخیر سے پہنچنے والے طلبہ کو بھی امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی۔

سِرسلہ ضلع کے تانگلا پلی منڈل کے جِلیلا گاؤں سے تعلق رکھنے والے بی آر ایس کے سینئر رہنما کٹّا روی کمار نے اپنی فیاضی کا مظاہرہ کیا۔ منڈپلی کے مضافات میں واقع کے سی آر نگر (ڈبل بیڈروم ہاؤسنگ کالونی) کے طلبہ کو سفری مشکلات کا سامنا تھا، کیونکہ وہاں مناسب بس سروس دستیاب نہیں تھی۔ اس مسئلے کے پیشِ نظر انہوں نے امتحانات کے مکمل ہونے تک طلبہ کے لیے مفت آٹو رکشا سروس کا انتظام کیا۔

طلبہ اور ان کے والدین نے کٹّا روی کمار کے اس اقدام پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے کہ بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (KTR) نے بھی دسویں جماعت کے طلبہ کو ‘گفٹ اے اسمائل’ مہم کے تحت امتحانی پَیڈز اور پین فراہم کیے تھے۔ کٹّا روی کمار نے کہا کہ انہیں یہ خیال کے ٹی آر سے ملا اور اسی جذبے کے تحت انہوں نے طلبہ کے لیے مفت ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا۔