حیدرآباد

اندراما ہاؤسز کیلئے 60 ہزار سے زیادہ درخواستیں، چار مزید حلقوں میں 1,920 مکانات کے لیے درخواستیں طلب

وی پی گوتم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی اس اسکیم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے گھر کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا موقع حاصل کریں۔ اسکیم سے متعلق مزید معلومات یا وضاحت کے لیے ہاؤسنگ بورڈ کے خصوصی رابطہ مرکز 040-24603572 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

حیدرآباد: کم آمدنی والے خاندانوں کو گھر فراہم کرنے کے مقصد سے تلنگانہ حکومت کی اندراما ہاؤسز ٹاورز اسکیم کو زبردست ردعمل ملا ہے۔ حیدرآباد کے اطراف واقع 16 اسمبلی حلقوں میں 7,340 مکانات کے لیے مجموعی طور پر 60,014 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

تلنگانہ ہاؤسنگ بورڈ کے نائب چیئرمین وی پی گوتم نے بتایا کہ 16 حلقوں میں درخواستیں وصول کرنے کا عمل ہفتہ کو مکمل ہوگیا ہے۔ اب موصولہ درخواستوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی، جس کے بعد 20 اگست کے بعد قرعہ اندازی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مکانات کی تعمیر کے لیے پہلے ہی ٹینڈرز طلب کیے جاچکے ہیں اور تعمیراتی کام ستمبر کے پہلے ہفتے میں شروع کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ موصولہ درخواستوں کے حساب سے ہر مکان کے لیے اوسطاً 8.18 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

ہاؤسنگ بورڈ کے نائب چیئرمین کے مطابق اب اندراما ہاؤسز اسکیم کو مزید چار اسمبلی حلقوں تک توسیع دی جارہی ہے۔ ایل بی نگر، گوشہ محل، مشیرآباد اور چندرائن گٹہ حلقوں میں مجموعی طور پر 1,920 مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ ان چار حلقوں کے مستحق افراد 16 اگست سے 3 ستمبر تک درخواستیں جمع کراسکتے ہیں۔ درخواستیں می سیوا مراکز، می سیوا کی ویب سائٹ یا می سیوا کی واٹس ایپ سروس کے ذریعے جمع کی جاسکتی ہیں۔

حکومت کی جانب سے ان مکانات کے لیے قیمتی سرکاری اراضی مفت فراہم کی جارہی ہے، جبکہ ہر مکان پر 5 لاکھ روپے کی مالی مدد بھی دی جائے گی۔ اندرما ہاؤسز ٹاورز میں اسٹِلٹ کے علاوہ 10 منزلیں ہوں گی۔ ایل بی نگر حلقے میں حیات نگر کے امنگل، گوشہ محل، مشیرآباد حلقے کے جمیستان پور اور چندرائن گٹہ حلقے میں فلک نما کے قریب بندلہ گوڑہ میں یہ مکانات تعمیر کیے جارہے ہیں۔ حکام کے مطابق چاروں حلقوں میں 480، 480 مکانات تعمیر کیے جائیں گے، جس سے مجموعی تعداد 1,920 فلیٹس تک پہنچ جائے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان مکانات کو مستحقین کے موجودہ حلقوں میں ہی تعمیر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کم آمدنی والے خاندانوں کو اپنا گھر حاصل کرنے کے لیے اپنے برسوں پرانے علاقوں سے نقل مکانی نہ کرنی پڑے۔ اس اسکیم کے ذریعے حکومت مستحق خاندانوں کو ان کے موجودہ علاقوں کے قریب ہی مستقل رہائش فراہم کرنا چاہتی ہے۔

ہاؤسنگ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ مکانات کی تقسیم کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ قرعہ اندازی کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس عمل کے بارے میں کسی قسم کی افواہوں یا شبہات پر یقین نہ کریں۔ درخواست دینے والے افراد کو 10 ہزار روپے فیس ادا کرنا ہوگی، تاہم قرعہ اندازی میں مکان نہ ملنے والے امیدواروں کو یہ رقم واپس کردی جائے گی۔ قرعہ اندازی میں منتخب ہونے والے مستحقین کو مکان کے لیے درکار 6 لاکھ روپے کی رقم چار قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت دی جائے گی۔

وی پی گوتم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی اس اسکیم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے گھر کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا موقع حاصل کریں۔ اسکیم سے متعلق مزید معلومات یا وضاحت کے لیے ہاؤسنگ بورڈ کے خصوصی رابطہ مرکز 040-24603572 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

16 اسمبلی حلقوں میں موصول ہونے والی 60,014 درخواستوں میں امبرپیٹ سے 3,893، بہادرپورہ سے 2,281، ابراہیم پٹنم سے 1,398، کاروان سے 2,773، خیریت آباد سے 6,970، کوکٹ پلی سے 9,208، مہیشورم سے 1,066، ملک پیٹ سے 4,459، ملکاج گیری سے 1,717، میڑچل سے 2,155، نامپلی سے 5,114، قطب اللہ پور سے 7,210، راجندر نگر سے 2,723، صنعت نگر سے 1,861، سکندرآباد کینٹونمنٹ سے 2,326 اور سیری لنگم پلی سے 4,860 درخواستیں شامل ہیں۔

حکام کے مطابق اندرما ہاؤسز ٹاورز اسکیم کا بنیادی مقصد حیدرآباد کے علاقے میں کم آمدنی والے خاندانوں کو معیاری اور مستقل رہائش فراہم کرنا اور انہیں اپنے ہی علاقوں میں گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کرنا ہے۔