حکومت نے اردو اکیڈمی کی زمین خانگی کمپنی کو لیز پر دینے کا فیصلہ منسوخ کردیا
تفصیلات کے مطابق شیرلنگم پلی منڈل کے درگاہ حسین شاہ ولی گاؤں میں واقع اردو اکیڈمی کی تقریباً ایک اعشاریہ صفر چار ایکڑ زمین کو ایک نجی کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ زمین 30 سال کی مدت کے لیے لیز پر دینے کی تجویز سامنے آئی تھی، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی اٹھائے گئے تھے۔
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے اردو اکیڈمی کی قیمتی زمین ایک نجی کمپنی کو طویل مدتی لیز پر دینے سے متعلق اپنا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اقلیتی بہبود محکمہ نے 11 اگست 2026 کو جاری کردہ سرکاری حکم نامے کے ذریعے پہلے جاری کیے گئے احکامات منسوخ کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شیرلنگم پلی منڈل کے درگاہ حسین شاہ ولی گاؤں میں واقع اردو اکیڈمی کی تقریباً ایک اعشاریہ صفر چار ایکڑ زمین کو ایک نجی کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ زمین 30 سال کی مدت کے لیے لیز پر دینے کی تجویز سامنے آئی تھی، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی اٹھائے گئے تھے۔
اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب اردو اکیڈمی کی زمین کو نجی کمپنی کو لیز پر دینے کے حکومتی فیصلے کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ درخواست میں زمین کو نجی ادارے کے حوالے کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
اب حکومت کی جانب سے سابقہ حکم واپس لیے جانے کے بعد اردو اکیڈمی کی اس زمین کو نجی کمپنی کو 30 سالہ لیز پر دینے کا فیصلہ ختم ہوگیا ہے۔ اقلیتی بہبود محکمہ کے تازہ احکامات کو اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اردو اکیڈمی کی زمین کے استعمال اور اسے نجی ادارے کو لیز پر دینے کے معاملے پر مختلف حلقوں میں تشویش پائی جا رہی تھی۔ خاص طور پر یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ اردو اکیڈمی کی ملکیت والی قیمتی اراضی کو اتنی طویل مدت کے لیے نجی کمپنی کے حوالے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
اب حکومت کے تازہ فیصلے سے یہ معاملہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور 30 سالہ لیز سے متعلق سابقہ حکم باضابطہ طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔