ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کی جھنجھٹ ختم؟ حیدرآباد میں پائپ گیس کی مانگ میں زبردست اضافہ
حکام کے مطابق حیدرآباد کے متعدد کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں عمارت کی تعمیر کے وقت ہی پائپ گیس کا بنیادی ڈھانچہ تیار کردیا گیا تھا، تاہم ابتدا میں صرف تقریباً نصف رہائشیوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ بیشتر خاندان عادت کی وجہ سے ایل پی جی سلنڈر ہی استعمال کرتے رہے۔
حیدرآباد: گھریلو گیس سلنڈروں کی بکنگ اور ترسیل میں تاخیر کے درمیان حیدرآباد میں پائپ کے ذریعے فراہم کی جانے والی قدرتی گیس کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ پائپ گیس کنکشن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والے خاندانوں کی تعداد چند ماہ پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے اور اب روزانہ تقریباً 60 سے 70 نئی پوچھ تاچھ سامنے آرہی ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے تک پائپ گیس کنکشن کے لیے روزانہ صرف 5 سے 6 خاندان معلومات حاصل کرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 60 سے 70 تک پہنچ گئی ہے۔ گیس سلنڈروں کی بکنگ، انتظار اور گھر تک ترسیل میں ہونے والی تاخیر کے باعث کئی خاندان پائپ گیس کو زیادہ آسان متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں آبنائے ہرمز کے راستے بحری نقل و حمل میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد ایل پی جی کی دستیابی سے متعلق خدشات نے بھی صارفین کو متبادل انتظامات کی جانب متوجہ کیا ہے۔ ایسے کئی خاندان جن کے اپارٹمنٹس میں پہلے ہی پائپ گیس کی لائن موجود تھی لیکن وہ برسوں سے ایل پی جی سلنڈر استعمال کررہے تھے، اب اپنے کنکشن فعال کروانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق حیدرآباد کے متعدد کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں عمارت کی تعمیر کے وقت ہی پائپ گیس کا بنیادی ڈھانچہ تیار کردیا گیا تھا، تاہم ابتدا میں صرف تقریباً نصف رہائشیوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ بیشتر خاندان عادت کی وجہ سے ایل پی جی سلنڈر ہی استعمال کرتے رہے۔
اب سلنڈر کی بکنگ اور ترسیل کے لیے انتظار سے بچنے کی خواہش نے اس رجحان کو تیز کردیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں پائپ گیس کا نیٹ ورک پہلے ہی موجود ہے، وہاں ہر گھر تک کنکشن پہنچانا اولین ترجیح ہے۔
حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں پائپ گیس کا نیٹ ورک بھی مسلسل وسیع کیا جارہا ہے۔ مغربی حیدرآباد میں چنتل اور جیڈی میٹلہ سے قطب اللہ پور، حفیظ پیٹ اور سائبر آباد کے مختلف علاقوں تک اس سہولت کو پھیلایا جارہا ہے۔
پائپ گیس کی حفاظت کے حوالے سے موجود خدشات پر حکام کا کہنا ہے کہ قدرتی گیس ہوا سے ہلکی ہوتی ہے اور کسی ممکنہ رساؤ کی صورت میں فضا میں پھیل جاتی ہے۔ اس کے برعکس ایل پی جی ہوا سے بھاری ہوتی ہے اور رساؤ کی صورت میں زمین کے قریب جمع ہوسکتی ہے۔
حکام کے مطابق پائپ گیس کے نظام میں حفاظتی انتظامات موجود ہیں اور رساؤ کی صورت میں گیس کے پھیلاؤ کی وجہ سے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم کسی بھی گیس کے نظام کے استعمال کے دوران حفاظتی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔
پائپ گیس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی ایک اہم وجہ اس کی قیمت بھی بتائی جارہی ہے۔ حکام کے مطابق ایل پی جی سے پائپ گیس پر منتقل ہونے والے کئی خاندانوں نے گیس کے اخراجات میں نسبتاً کمی محسوس کی ہے۔
پائپ گیس کا استعمال بجلی اور پانی کی طرح میٹر کے ذریعے ریکارڈ کیا جاتا ہے اور صارف کو حقیقی استعمال کے مطابق بل ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس کی ریڈنگ اور بلنگ عام طور پر دو ماہ میں ایک مرتبہ کی جاتی ہے۔
31 مئی 2026 تک حیدرآباد جغرافیائی علاقے میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 41 ہزار 432 گھریلو پائپ گیس کنکشن فراہم کیے جاچکے تھے۔ ان میں میڑچل ملکاج گری میں 1 لاکھ 87 ہزار 198، رنگا ریڈی میں 31 ہزار 355 اور حیدرآباد ضلع میں 22 ہزار 872 گھریلو کنکشن شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اس پورے جغرافیائی علاقے میں 137 تجارتی اور 100 صنعتی کنکشن کے ساتھ 98 سی این جی اسٹیشن بھی موجود ہیں۔ اس نیٹ ورک میں حیدرآباد، میڑچل ملکاج گری، رنگا ریڈی، میڑک اور سنگاریڈی اضلاع شامل ہیں۔
تعمیراتی شعبے کے ماہرین کے مطابق مغربی حیدرآباد میں پائپ گیس کی مقبولیت خاص طور پر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گیٹڈ کمیونٹیز میں رہائشی فلاحی انجمنیں بھی مرکزی طور پر پائپ گیس کے نیٹ ورک کی نگرانی اور دیکھ بھال کرسکتی ہیں، جس سے رہائشیوں کے لیے یہ نظام مزید آسان ہوجاتا ہے۔
خصوصاً اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد میں پائپ گیس کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے، کیونکہ مصروف زندگی میں بار بار گیس سلنڈر بک کروانے اور اس کی ترسیل کا انتظار کرنے کے بجائے مسلسل پائپ گیس کی سہولت زیادہ آسان محسوس ہوتی ہے۔
یوں حیدرآباد میں پائپ گیس کی بڑھتی ہوئی مانگ صرف ایل پی جی کی فراہمی سے متعلق حالیہ خدشات کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل فراہمی، آسان استعمال، ممکنہ طور پر کم خرچ اور سلنڈر بکنگ کی پریشانی سے نجات جیسے عوامل بھی اس رجحان کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔