ڈوڈا کے تھاتھری قصبے میں بادل پھٹنے سے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان
انہوں نے کہا کہ "خبروں کے مطابق، تھاتھری بازار کو کافی نقصان پہنچا ہے اور کئی گھر بڑے پتھروں، مٹی اور ملبے کے نیچے دب گئے ہیں۔ کئی گاڑیوں کے بھی تباہ ہونے یا بہہ جانے کی خبر ہے۔" ذرائع نے کہا کہ "نقصان کا صحیح اندازہ لگایا جا رہا ہے۔" انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے یا مرنے کی کوئی خبر نہیں ہے۔
جموں: جموں و کشمیر میں ڈوڈا ضلع کے تھاتھری علاقے میں بادل پھٹنے سے اچانک آئے سیلاب اور مٹی کے تودے کھسکنے سے کئی گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔
سرکاری ذرائع نے منگل کو بتایا کہ کل دیر رات تقریباً 2:30 بجے تھاتھری قصبے میں بادل پھٹا، جس سے اچانک سیلاب آگیا اور علاقے میں کافی تباہی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ "خبروں کے مطابق، تھاتھری بازار کو کافی نقصان پہنچا ہے اور کئی گھر بڑے پتھروں، مٹی اور ملبے کے نیچے دب گئے ہیں۔ کئی گاڑیوں کے بھی تباہ ہونے یا بہہ جانے کی خبر ہے۔” ذرائع نے کہا کہ "نقصان کا صحیح اندازہ لگایا جا رہا ہے۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے یا مرنے کی کوئی خبر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ "کئی گھروں میں مٹی، پانی اور ملبہ داخل ہوگیا، جس کی وجہ سے لوگوں کو ملبہ ہٹانے میں کافی مشقت کرنی پڑی۔” ساتھ ہی کئی خاندانوں کو سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔
حکام نے بتایا کہ کافی مقدار میں مٹی اور ملبہ جمع ہونے کی وجہ سے ڈوڈا-کشتواڑ قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "واقعے کے بعد کی صورتحال پر باریک بینی سے نظر رکھی جا رہی ہے اور انتظامی حکام و پولیس اہلکاروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔”
اس سے پہلے، ڈوڈا ضلع کے بھلیسا علاقے اور کشتواڑ ضلع میں 540 میگاواٹ کے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے پاس بھی بادل پھٹنے کے واقعات ہوئے تھے۔