امریکہ و کینیڈا

ٹرمپ ترکی کو ایف-35 جنگی طیارے دینے پر آمادہ: نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کو بتائیں گے کہ وہ ترکی کو دوبارہ ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ پروگرام میں شامل ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ روانہ ہو رہے ہیں، جہاں ان کی اردوان سے ملاقات متوقع ہے، یہ اجلاس منگل کی شام شروع ہونے والا ہے۔

واشنگٹن: نیویارک ٹائمز نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ترکی کو دوبارہ ایف-35 پروگرام میں شامل کرنے پر آمادگی ظاہر کریں گے۔


روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کو بتائیں گے کہ وہ ترکی کو دوبارہ ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ پروگرام میں شامل ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ روانہ ہو رہے ہیں، جہاں ان کی اردوان سے ملاقات متوقع ہے، یہ اجلاس منگل کی شام شروع ہونے والا ہے۔

عہدے دار اس بات کی تفصیلات پر متفق نہیں تھے کہ ٹرمپ کانگریس اور قانونی پابندیوں سے نمٹنے یا ان کے دائرے میں رہتے ہوئے اس معاملے کو کس طرح آگے بڑھائیں گے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہو سکتا ہے۔


ترکی کی جانب سے 2019 میں روسی ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ کر دیا تھا اور انقرہ کے لیے امریکی کانگریس کی حمایت کو بھی متاثر کیا تھا۔ اس کے جواب میں واشنگٹن نے ترکی پر پابندیاں عائد کر دیں اور اسے ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام سے خارج کر دیا۔


امریکی کانگریس نے ایک قانون بھی منظور کیا تھا جس کے تحت جب تک ترکی کے پاس ایس-400 نظام موجود ہے، اسے ایف-35 طیاروں کی فروخت پر پابندی رہے گی، کیوں کہ کانگریس کے مطابق روسی دفاعی نظام امریکی ساختہ جنگی طیاروں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے دور میں ترکی اور واشنگٹن کے تعلقات نسبتاً بہتر رہے ہیں، تاہم ایف-35 اور ایس-400 کا معاملہ اب بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم اختلافی مسئلہ بنا ہوا ہے۔


یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے باضابطہ طور پر کانگریس کو ترکی کو 700 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے درجنوں جیٹ انجن فروخت کرنے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا تھا۔


واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترکی کو ایف-تھرٹی فائیو جنگی طیارے فروخت نہ کرے، اس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اس کے حق میں بگڑ جائے گا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے کہا ہے ترک صدر رجب طیب اردوان اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں، لہٰذا انھیں جدید فوجی ٹیکنالوجی فراہم نہیں کی جانی چاہیے۔