عمر عبداللہ نے ایل جی کو ٹیلی کام اختیارات دینے کی حمایت کی، کانگریس برہم
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز مرکز کے زیر انتظام ریاست کے ٹیلی کام سیکٹر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اختیارات بڑھانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو اس طرح کے اختیارات دینے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔
سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز مرکز کے زیر انتظام ریاست کے ٹیلی کام سیکٹر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اختیارات بڑھانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو اس طرح کے اختیارات دینے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔
دوسری طرف جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حمید نے اس قدم کو جمہوری طرزِ حکمرانی میں ‘ایک اور نقب زنی’ قرار دیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ کانگریس نے حکمراں نیشنل کانفرنس کے ساتھ مل کر 2024 کا جموں و کشمیر اسمبلی انتخاب اتحاد میں لڑا تھا اور وہ ریاست میں حکمراں اتحاد کا حصہ ہیں۔
مرکز نے ایک بڑے انتظامی اقدام کے تحت حال ہی میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو ‘ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023’ کے تحت ریاستی حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کے لیے مجاز قرار دیا ہے، جس سے ٹیلی کام انتظامیہ اور ریگولیٹری معاملات میں مرکز کے زیر انتظام انتظامیہ کے کردار میں توسیع ہوئی ہے۔
مسٹر عمر عبداللہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کام کے اختیارات دینے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے کیونکہ فون ٹیپنگ، موبائل خدمات کی معطلی اور انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن سے متعلق فیصلے محکمہ داخلہ سے جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ان کے پاس ٹیلی کام کے اختیارات ہونے چاہئیں۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ری آرگنائزیشن ایکٹ یا کاروباری قواعد کے خلاف ہو۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ مواصلات میں رکاوٹ یا انٹرنیٹ خدمات کی معطلی جیسے اقدامات صرف امن و امان کی سنگین صورتحال میں کیے جاتے ہیں اور محکمہ داخلہ کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں، جو لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت کام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ٹیلی فون ٹیپ کرنا، موبائل سروس بند کرنا یا انٹرنیٹ بند کرنا یہ احکامات محکمہ داخلہ سے آتے ہیں۔ داخلہ، امن و امان اور سکیورٹی لیفٹیننٹ گورنر کی ذمہ داری ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر منتخب حکومت سکیورٹی کے معاملات پر کنٹرول کے بغیر ایسے فیصلوں میں شامل ہوگی تو اس سے انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ مسٹر عبداللہ نے کہ کہ ’’اگر صورتحال بگڑتی ہے اور موبائل انٹرنیٹ بند کرنا پڑتا ہے تو لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے حکم جاری کیا جائے گا۔
جب تک سکیورٹی اور امن و امان کی ذمہ داری لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے، تب تک ان کے پاس یہ طاقت ہونی چاہیے۔‘‘
ایک دن پہلے، جموں و کشمیر کانگریس کے سربراہ اور ایم ایل اے طارق نے کہا تھا کہ ’’جموں و کشمیر کی غیر منتخب طاقت کو انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن، مواصلاتی نیٹ ورک کی نگرانی اور ڈکرپشن اتھارٹی سمیت وسیع ٹیلی کام اختیارات سونپنے کا فیصلہ جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کے جمہوری حکمرانی کے نظام میں ایک اور نقب ہے۔”
مسٹر طارق نے کہا کہ برسوں سے جموں و کشمیر میں اعتماد کی بحالی، جمہوری بااختیاری اور اداروں کو مضبوط کرنے کے وعدے کیے گئے، لیکن اس طرح کے اقدامات صرف اس احساس کو تقویت دیتے ہیں کہ منتخب نظام کے باوجود اصل اتھارٹی کہیں اور مرکوز ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "قومی سلامتی اور عوامی تحفظ اہم ہیں، لیکن ایک ایسے خطے میں جہاں پہلے ہی بار بار مواصلاتی پابندیاں عائد ہوتی رہی ہوں، وہاں جمہوری جوابدہی کے بغیر ایسے غیر معمولی اختیارات سنگین پالیسی خدشات پیدا کرتے ہیں۔ جب تک حکمرانی انتظامی طور پر مرکزی رہے گی، تب تک جمہوریت کو سیاسی طور پر بحال نہیں کیا جا سکتا۔”