حیدرآباد

دہلی میں طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج اور راہول گاندھی کی گرفتاری کے خلاف کانگریس کا حیدرآباد میں زبردست احتجاج، فہیم قریشی سمیت کئی قائدین حراست میں

احتجاج میں تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (PCC) کے صدر سمیت متعدد سینئر رہنما اور بڑی تعداد میں کانگریس کارکن شریک ہوئے۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ طلبہ پر طاقت کا استعمال اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔

حیدرآباد: دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ لاٹھی چارج اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی کی گرفتاری کے خلاف تلنگانہ کانگریس نے منگل کو راج بھون کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔

احتجاج میں تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (PCC) کے صدر سمیت متعدد سینئر رہنما اور بڑی تعداد میں کانگریس کارکن شریک ہوئے۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ طلبہ پر طاقت کا استعمال اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔

کانگریس رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں بند کی جائیں۔ انہوں نے راہل گاندھی کی گرفتاری کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔

احتجاج کے دوران جب مظاہرین نے راج بھون کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روک دیا، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔

بعد ازاں پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے متعدد کانگریسی رہنماؤں اور کارکنوں کو احتیاطی طور پر حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں پی سی سی صدر کے علاوہ کانگریس کے سینئر رہنما اور شیڈو چیف منسٹر فہیم قریشی بھی شامل تھے۔

فہیم قریشی کی گرفتاری سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گئی، کیونکہ وہ اسی تلنگانہ میں گرفتار ہوئے جہاں کانگریس کی حکومت قائم ہے۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ راج بھون کے اطراف امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہرین کو احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا۔

اس احتجاج کے بعد دہلی میں طلبہ کے مظاہروں، راہل گاندھی کی گرفتاری اور اپوزیشن کے احتجاج کو لے کر سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔