سادات کو زکوٰۃ
اصلاً سادات کو زکوٰۃ دینا درست نہیں ؛ البتہ امام ابوحنیفہؒ کا ایک قول یہ ہے کہ مالِ غنیمت میں سادات کے لئے جو خصوصی مد ہوا کرتا تھا ، اگر کسی زمانہ میں وہ مد باقی نہ رہے تو ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے
سوال:- (۱) کیا ایسے سید حضرات جن کے یہاں لڑکیاں زیادہ ہیں اور جن کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے ، ان کی لڑکیوں کی شادی کے لئے زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے ، جیسے فرنیچر کی خریدی ، شادی خانے کا کرایہ ، شادی کے دن ضیافت وغیرہ کرنے کے لئے زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے اگر دولہا غیرسید ہو ؟
(۲) ایسے غریب سید طالب علم جو پیسے کی کمی کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے ، انھیں تعلیمی اخراجات کے لئے زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے ؟
(۳) ضعیف سید حضرات کو ان کے علاج کے لئے زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے ؟ (ایک دینی بہن)
جواب :- اصلاً سادات کو زکوٰۃ دینا درست نہیں ؛ البتہ امام ابوحنیفہؒ کا ایک قول یہ ہے کہ مالِ غنیمت میں سادات کے لئے جو خصوصی مد ہوا کرتا تھا ، اگر کسی زمانہ میں وہ مد باقی نہ رہے تو ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ، اسی طرح ایک قول امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کا یہ بھی منقول ہے کہ سادات کی زکوٰۃ سادات کو دی جاسکتی ہے:
وروی أبو عصمۃ عن الإمام أنہ یجوز الدفع إلی بنی ہاشم فی زمانہ لأنہ عوضہا وھو خمس الخمس لم یصل إلیہم لإہمال الناس أمر الغنائم وإیصالہا إلی مستحقیہا ، وإذا لم یصل إلیہم العوض عادوا إلی المعوض کذا فی البحر ، قال فی النہر : وجوز أبویوسف دفع بعضہم إلی بعض وھو روایۃ عن الإمام (ردالمحتار : ۳؍۲۹۹ ، کتاب الزکوٰۃ)-
اس لئے کوشش تو یہ کرنی چاہئے کہ سادات کو عطیہ کے مد سے رقم دی جائے اور اگر اس کی گنجائش نہ ہوتو ان کو بالواسطہ رقم پہنچائی جائے ، جیسے ایسے غریب لڑکے یا لڑکی کے والدین میں سے اگر ایک سید ہوں اور دوسرے سید نہ ہوں تو جو نہیں ہوں ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ،
اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو موجودہ حالات میں امام ابوحنیفہؒ کے اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ، جس کا ذکر اوپر کیا گیا ، اس قول کے مطابق سید حضرات کو لڑکیوں کی شادی ، بچوں کی تعلیم اوربیماروں کے علاج کے لئے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ۔