تعلیم و روزگار

طلبہ و طالبات نے اساتذہ کے کردار کو اپنایا تو علم کے مختلف رنگ ایک ہی منظر میں جلوہ گر ہوگئے

آج یہ بچے چند لمحوں کے لیے استاد بن کر کھڑے ہوئے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر ہمیں آنے والے کل کی ایک روشن تصویر دکھا رہا ہے

حیدرآباد   : مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادر نے یومِ اساتذہ کے موقع پر جب اسکولوں، مدارس، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات نے اپنے اپنے اساتذہ کے کردار ادا کیے تو تعلیمی اداروں کے یہ مناظر محض ایک تقریب نہیں بلکہ علم، ادب، تربیت اور استاد سے محبت کی ایک خوب صورت تصویر بن گئے۔ کسی طالب علم نے اردو کے استاد کا کردار نبھایا، کسی نے عربی، کسی نے تلگو اور کسی نے انگریزی کے معلم کی حیثیت سے اپنے فن کا مظاہرہ کیا؛ جبکہ ریاضی، سائنس اور سماجی علوم کے اساتذہ کے کردار بھی طلبہ نے نہایت اعتماد اور تخلیقی انداز میں پیش کیے۔

ان تمام مناظر کا مشاہدہ کرنے کے بعد خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤس، نامپلی حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے خطاب میں کہا:

’’آج میں نے ان بچوں میں صرف اپنے اساتذہ کے کردار نہیں دیکھے، بلکہ مجھے ان ننھے کرداروں میں مستقبل کے معلم، ادیب، محقق، سائنس داں، ریاضی داں اور قوم کے معمار دکھائی دیے۔ آج یہ بچے چند لمحوں کے لیے استاد بن کر کھڑے ہوئے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ منظر ہمیں آنے والے کل کی ایک روشن تصویر دکھا رہا ہے۔‘‘

مولانا نے کہا کہ جب ایک طالب علم استاد کی کرسی پر بیٹھتا ہے تو وہ صرف ایک کردار ادا نہیں کرتا، بلکہ وہ استاد کی ذمہ داری کا ایک حصہ محسوس کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ استاد بننا صرف سبق پڑھا دینا نہیں، بلکہ ذہنوں کو روشن کرنا، صلاحیتوں کو پہچاننا، کمزور طالب علم کا ہاتھ تھامنا، سوال کرنے والے ذہن کی حوصلہ افزائی کرنا اور ایک نسل کے مستقبل کو سنوارنا ہے۔

انہوں نے طلبہ و طالبات کی پیشکش کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج اردو کے استاد کے روپ میں زبان و ادب کی خوشبو، عربی کے استاد کے کردار میں علمی و تہذیبی ورثے کی جھلک، تلگو کے استاد کے ذریعے مادری زبان کا احترام اور انگریزی کے استاد کے کردار میں عالمی علوم سے ربط کا پیغام نمایاں ہوا۔ ریاضی کے کردار نے ذہن کو ترتیب و منطق کا درس دیا، سائنس کے کردار نے تحقیق و جستجو کی روح بیدار کی اور سماجی علوم کے کردار نے معاشرے، تاریخ اور انسانی ذمہ داریوں کا شعور اجاگر کیا۔

مولانا نے کہا:

’’یہ منظر دراصل ایک مکمل درس گاہ تھا؛ کسی کے ہاتھ میں کتاب تھی تو کسی کے لب پر علم کا پیغام، کسی کے انداز میں معلم کی سنجیدگی تھی تو کسی کے لہجے میں استاد کی شفقت۔ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے بچوں نے آج یہ ثابت کردیا کہ تعلیم صرف کتاب کے صفحات میں محدود نہیں، بلکہ جب علم کو کردار، اعتماد اور اظہار مل جائے تو وہ ایک زندہ حقیقت بن جاتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ و طالبات کی یہ سرگرمی قابلِ ستائش ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف نمبر حاصل کرنا نہیں بلکہ شخصیت کو نکھارنا، اظہار کی صلاحیت پیدا کرنا، خود اعتمادی بڑھانا اور دوسروں کے مقام و کردار کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔

مولانا صابر پاشاہ قادری نے اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج جن بچوں نے آپ کا کردار ادا کیا ہے، وہ آپ کے لیے صرف شاگرد نہیں بلکہ آپ کی محنت کا آئینہ ہیں۔ اگر ان کے لہجے میں اعتماد ہے، ان کے انداز میں شائستگی ہے، ان کے الفاظ میں علم ہے اور ان کے کردار میں نظم و ضبط ہے تو یہ ان کے اساتذہ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

انہوں نے طلبہ و طالبات سے کہا کہ اپنے استاد کا بہترین شکریہ یہ ہے کہ آپ علم کو اپنی زندگی کا زیور بنائیں، اخلاق کو اپنی پہچان بنائیں اور اپنے مستقبل کو ایسا روشن کریں کہ آپ کے استاد کو آپ پر فخر ہو۔

مولانا نے آخر میں کہا:

’’آج کے یہ بچے صرف استاد کا کردار ادا کرکے واپس نہ جائیں، بلکہ استاد کی ایک خوبی اپنے ساتھ لے کر جائیں۔ کسی سے نرمی سیکھیں، کسی سے وقت کی پابندی، کسی سے علم کی محبت، کسی سے تحقیق کا جذبہ اور کسی سے خدمت کا حوصلہ۔ اگر یومِ اساتذہ کے بعد ہمارے طلبہ اپنے اندر استاد کی ایک ایک خوبی پیدا کرنے کا عزم لے کر اٹھیں تو یہ دن حقیقی معنوں میں کامیاب ہوجائے گا۔‘‘

انہوں نے تمام طلبہ و طالبات، اساتذہ و معلمات اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نسلِ نو کے اندر علم سے محبت، اساتذہ کا احترام، مختلف علوم کی قدر شناسی اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا جذبہ پیدا کرتی ہیں، اور یہی وہ اقدار ہیں جن سے ایک باشعور، باکردار اور روشن مستقبل رکھنے والی قوم تشکیل پاتی ہے۔