کرناٹک کے ضمنی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی کا آغاز
کرناٹک کے باگلکوٹ اور داونگیرے ساؤتھ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی پیر کی صبح سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان شروع ہو گئی۔ حکام نے اس عمل کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر پختہ انتظامات کیے ہیں۔
بنگلورو: کرناٹک کے باگلکوٹ اور داونگیرے ساؤتھ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی پیر کی صبح سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان شروع ہو گئی۔ حکام نے اس عمل کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر پختہ انتظامات کیے ہیں۔
بی جے پی نے باگلکوٹ سے سابق ایم ایل اے اور 2023 کے امیدوار ویربھدریا چرنٹی مٹھ کو میدان میں اتارا ہے، جبکہ داونگیرے ساؤتھ سے ایک نئے چہرے سری نواس ٹی داساکاریاپا پر بھروسہ کیا ہے۔
دوسری جانب، کانگریس نے دونوں حلقوں میں سابق قانون سازوں کے اہل خانہ کو ٹکٹ دیے ہیں۔ باگلکوٹ میں ایچ وائی میٹی کے صاحبزادے اومیش میٹی میدان میں ہیں، جبکہ داونگیرے ساؤتھ سے شامنور شیو شنکرپا کے پوتے سمرتھ ملیکارجن پارٹی کے امیدوار ہیں۔
انتخابی حکام کے مطابق، گنتی کے مراکز (باگلکوٹ میں یونیورسٹی آف ہارٹی کلچرل سائنسز اور داونگیرے میں ڈی آر آر اسکول) پر مناسب سیکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ ایک غیر معمولی واقعے میں، ای وی ایم اسٹوریج روم کی چابی نہ ملنے پر حکام کو اسٹرونگ روم کا تالا توڑنا پڑا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نتائج کے اعلان کے دوران اور اس کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
باگلکوٹ میں سروس ووٹرز سے موصول ہونے والے پوسٹل بیلٹس کے لیے کیو آر کوڈ اسکیننگ کا علیحدہ انتظام کیا گیا ہے، جس کی نگرانی کے لیے خصوصی عملہ تعینات ہے۔ گنتی کے مرکز پر داخلے کے لیے سخت پروٹوکول نافذ کیے گئے ہیں
جہاں امیدواروں اور ان کے ایجنٹوں کے لیے علیحدہ پارکنگ اور داخلے کے راستے مخصوص کیے گئے ہیں۔ مرکزی دروازے سے صرف گنتی کے عملے اور میڈیا کے نمائندوں کو داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔