حیدرآباد

درگاہیں ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور انسانیت کیلئے سکون کا مرکز ہیں: ڈاکٹر شاہ خلیفہ محمد ادریس احمد قادری

استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری نے کہا کہ درگاہیں وہ آستانے ہیں جہاں انسانیت کو سکون، محبت اور روحانی راحت حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “جو علی علی کرتے رہے، وہ ولی بن گئے”، اور اولیائے کرام کی زندگیاں عشقِ اہل بیت اور محبتِ رسول ﷺ کا عملی نمونہ ہیں۔

بیدر: درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف میں حضرت حاجی شاہ سید محمد حسین عالم قادری الشطاریؒ المعروف حضرت کنڑی صاحب ناگوری رحمتہ اللہ علیہ، نبیرہ حضرت شاہ سید عبدالقادر شاہ ولی گنج سوائی گنج بخش بادشاہ گوری “قادر ولی” رحمۃ اللہ علیہ کا 44واں سالانہ عرس شریف نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔

اس موقع پر بعد نماز عصر قادریہ منزل محلہ گڑھی سے جلوسِ صندل نکالا گیا، جس میں عقیدت مندوں نے سروں پر صندل کی کشتیاں اٹھا رکھی تھیں۔ یہ جلوس ممتاز پیر طریقت شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری بگدلی، سجادہ نشین درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف کی نگرانی میں برآمد ہوا اور مختلف راستوں سے گزرتا ہوا درگاہ شریف پہنچا، جہاں ہزاروں مریدین و معتقدین نے اس کا پرتپاک استقبال کیا۔

بعد نماز عصر خصوصی صندل مالی کی رسومات ادا کی گئیں، جبکہ گل ہائے عقیدت، سلام، فاتحہ اور تبرکات کی تقسیم بھی عمل میں آئی۔ اس کے بعد عظیم الشان جلسہ “فیضان اولیاء اللہ” منعقد ہوا جس میں مختلف علماء، مشائخ اور مقررین نے خطاب کیا۔

استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری نے کہا کہ درگاہیں وہ آستانے ہیں جہاں انسانیت کو سکون، محبت اور روحانی راحت حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “جو علی علی کرتے رہے، وہ ولی بن گئے”، اور اولیائے کرام کی زندگیاں عشقِ اہل بیت اور محبتِ رسول ﷺ کا عملی نمونہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حضرت شاہ سید محمد حسین عالم قادریؒ ایک باکمال ولی اللہ تھے جن کی روحانی خدمات آج بھی جاری ہیں۔ ان کے مریدین نہ صرف ہندوستان بلکہ انڈونیشیا، ملیشیا، ترکی، سعودی عرب، عراق اور دیگر ممالک میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت ممدوحؒ نے شریعت و طریقت دونوں کی تعلیمات کو عام کیا اور صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔

مہمان خصوصی اور رکن کرناٹک وقف بورڈ حضرت علامہ سید محمد تنویر ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کی محبت لوگوں کے دلوں میں خود پیدا فرماتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی محبت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں “محی الدین” کا عظیم مقام عطا فرمایا۔

انہوں نے آستانہ قادریہ بگدل شریف کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شاہ خلیفہ محمد ادریس احمد قادری نے خانقاہی نظام کو فروغ دینے اور روحانی اقدار کو عام کرنے کیلئے اپنی زندگی وقف کردی ہے۔

صدر کل ہند تنظیم اصلاح معاشرہ اور چیف ایڈیٹر روزنامہ سماج سدھار مولانا محمد عبدالحمید رحمانی چشتی نے کہا کہ تمام اولیاء کی نسبت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اہل بیتؓ کی محبت سب سے اعلیٰ و ارفع مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص قادری، چشتی یا نقشبندی بننا چاہتا ہے، اسے سب سے پہلے “پنجتنی” بننا ہوگا اور اہل بیتؓ سے محبت رکھنی ہوگی۔

جلسے سے مولانا سید شاہ عزیز اللہ قادری، مولانا مفتی سید احمد غوری، مولانا حافظ فاروق عزیز باسط نظامی، پروفیسر ڈاکٹر سید جہانگیر علی قادری، مولانا سید رفعت علی نقشبندی، مولانا حافظ شمس الدین قادری نظامی اور دیگر علماء و مشائخ نے بھی خطاب کیا اور اولیائے کرام کی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر ریاستی وزیر جناب ایشور کھنڈرے نے بھی درگاہ شریف پر حاضری دی۔ ان کا روایتی استقبال کیا گیا اور شال و گلپوشی کے ذریعہ تہنیت پیش کی گئی۔ خطاب کرتے ہوئے ایشور کھنڈرے نے کہا کہ درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف گنگا جمنی تہذیب کی بہترین مثال ہے، جہاں ہر مذہب اور طبقے کے لوگ حاضر ہوکر روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ایم ایل سی جناب مرزا رحمت بیگ قادری نے بھی درگاہ شریف پر حاضری دی اور سجادہ نشین کی خدمت میں تہنیت پیش کی۔

جلسے میں مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات کے علاوہ ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ محفل کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جبکہ ممتاز نعت خواں حضرات نے حمد، نعت اور منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔

آخر میں مہمانوں، علماء و مشائخ کی شال پوشی و گلپوشی انجام دی گئی اور خصوصی دعا کے ساتھ جلسے کا اختتام عمل میں آیا۔