تلنگانہ

خواتین میں اندراماں ساڑیوں کی تقسیم کا آغاز، نیکلس روڈ پر چیف منسٹر کے ہاتھوں پروگرام کا افتتاح

وزیراعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی نے آج ریاست بھر میں ایک کروڑاندرماں ساڑیوں کی تقسیم کا آغاز کیا اور کئی مستحق خواتین کو ساڑیاں حوالے کیں۔

حیدرآباد: وزیراعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی نے آج ریاست بھر میں ایک کروڑاندرماں ساڑیوں کی تقسیم کا آغاز کیا اور کئی مستحق خواتین کو ساڑیاں حوالے کیں۔ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی جینتی کے موقع پروزیراعلیٰ نے حیدرآباد کے نیکلس روڈ پر ندرا گاندھی کے مجسمہ پر گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد ساڑیوں کی پہلے مرحلہ کی تقسیم کا آغازکیا۔

متعلقہ خبریں
چیف منسٹر پر کذب بیانی کے ٹی آر کا الزام
جمعہ: دعا کی قبولیت، اعمال کی فضیلت اور گناہوں کی معافی کا سنہری دن،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
کےسی آر کی تحریک سے ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہوئی – کانگریس نے عوامی مفادات کوبہت نقصان پہنچایا :عبدالمقیت چندا
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
مولانا محمد علی جوہرنے تحریک آزادی کے جوش میں زبردست ولولہ اور انقلابی کیفیت پیدا کیا: پروفیسر ایس اے شکور

حکومت کے مطابق، آج سے لے کر اگلے ماہ 9 تاریخ تک ریاست کے دیہی علاقوں میں ساڑیوں کی تقسیم کی جائے گی۔ دوسرے مرحلہ کے طور پر، یکم مارچ سے 8 مارچ تک شہری علاقوں میں ساڑیاں تقسیم کی جائیں گی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا کہ ملک میں سیاسی خلاء پیدا ہونے کے وقت اندرا گاندھی نے وزیر اعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال کر ملک کو مضبوط قیادت فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ اندرا گاندھی نے امبیڈکر کے نظریات کی تکمیل کے لئے نمایاں خدمات انجام دیں۔

وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ اندرا گاندھی نے بینکوں کے قومیانے کے ساتھ ساتھ ”زرعی اراضی سیلنگ ایکٹ” نافذ کرکے غریبوں میں اراضیات تقسیم کیں اور عام عوام کے لئے مکانات تعمیر کروائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کے دوران اندرا گاندھی نے بے مثال حوصلے کے ساتھ ملک کی قیادت کی۔

ریونت ریڈی نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اندرماں سے حاصل ہونے والی تحریک کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور خواتین کے بااختیار بنانے کے لئے کئی اقدامات کررہی ہے۔

اس تقریب میں نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا، وزراء، ارکان اسمبلی، سرکاری مشیران، کارپوریشن چیئرمین اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔