آر ٹی سی ہڑتال ختم کریں، 32 میں سے 29 مطالبات حل کرنے کو تیار ہیں: وزیر ٹرانسپورٹ پوونم پربھاکر
تلنگانہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ اور بی سی ویلفیئر پوونم پربھاکر نے بدھ کے روز آر ٹی سی ملازمین سے جاری ہڑتال ختم کرنے کی پرزور اپیل کی ہے۔ انہوں نے ملازمین پر زور دیا کہ وہ عوامی مفاد اور ادارے کی بقا کو ترجیح دیتے ہوئے فوری طور پر اپنی ڈیوٹی پر واپس لوٹ آئیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ اور بی سی ویلفیئر پوونم پربھاکر نے بدھ کے روز آر ٹی سی ملازمین سے جاری ہڑتال ختم کرنے کی پرزور اپیل کی ہے۔ انہوں نے ملازمین پر زور دیا کہ وہ عوامی مفاد اور ادارے کی بقا کو ترجیح دیتے ہوئے فوری طور پر اپنی ڈیوٹی پر واپس لوٹ آئیں۔
وزیر موصوف نے ایک تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ حکومت ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔
حکومت نے چار اراکین پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے جسے چار ہفتوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پوونم پربھاکر نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ کمیٹی کا قیام فیصلے میں تاخیر کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ورکرز کے 32 میں سے 29 مطالبات فوری طور پر حل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صرف دو اہم مسائل—آر ٹی سی کا حکومت میں انضمام اور ٹریڈ یونین انتخابات تیکنیکی پیچیدگیوں کی وجہ سے زیرِ التوا ہیں، جن پر وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ سے براہِ راست بات چیت کی جائے گی۔
وزیرِ ٹرانسپورٹ نے اب تک کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا 2017 کے پی آر سی بقایاجات، ڈی اے اور 2013 کے پرانے بانڈز کی رقم ادا کر دی گئی ہے۔
پروویڈنٹ فنڈ( پی ایف) کے بقایاجات 1,205 کروڑ سے کم کر کے 600 کروڑ روپے کر دیے گئے ہیں۔
4,538 اسامیوں پر بھرتی کا عمل آخری مراحل میں ہے، جبکہ 1,134 ہمدردانہ تقرریاں شروع کر دی گئی ہیں۔سابقہ حکومت کے دوران برطرف کیے گئے 250 ملازمین کو دوبارہ ملازمت پر بحال کر دیا گیا ہے۔وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ آر ٹی سی روزانہ 65 لاکھ مسافروں کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے، جن میں 45 لاکھ خواتین شامل ہیں۔
"ہڑتال کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس سے صرف غریب عوام کو پریشانی ہوگی جو سفر کے لیے آر ٹی سی پر منحصر ہیں۔ میں ملازمین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جمہوری طریقے سے احتجاج کریں لیکن عوامی خدمات میں خلل نہ ڈالیں۔
"انہوں نے ملازمین کو یقین دلایا کہ حکومت تمام مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور انہیں ادارے کی بہتری کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔