تلنگانہ

کالیشورم کیس: ہائی کورٹ کا جسٹس پی سی گھوش کمیشن کی رپورٹ پر اسٹے، کے سی آر اور ہریش راؤ کو بڑی راحت

تلنگانہ ہائی کورٹ نے بدھ کے روز کالیشورم پروجیکٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جسٹس پی سی گھوش کمیشن کی رپورٹ پر حکمِ التوا (اسٹے) جاری کر دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ کو بڑی راحت ملی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے بدھ کے روز کالیشورم پروجیکٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جسٹس پی سی گھوش کمیشن کی رپورٹ پر حکمِ التوا (اسٹے) جاری کر دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ کو بڑی راحت ملی ہے۔

متعلقہ خبریں
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
تلنگانہ رعیتولا سمیتی (ٹی آرایس) کا جلد رجسٹریشن کرنے الیکشن کمیشن کو ہدایت
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ


چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اس معاملے پر طویل سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے واضح ہدایت دی کہ کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر پٹیشنرز کے خلاف کوئی بھی تادیبی یا تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔


ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ رپورٹ کی تیاری اور اسے جمع کرانے میں طریقہ کار کی خامیاں موجود ہیں۔ عدالت نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے ہی عام کر دی گئی۔


یہ درخواستیں کے سی آر، ہریش راؤ اور سینئر آئی اے ایس افسران سمیتا سبھروال اور ایس کے جوشی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جنہوں نے کمیشن کی تشکیل اور اس کی رپورٹ کو چیلنج کیا تھا۔


عدالت کا یہ حکم تمام پٹیشنرز بشمول بیوروکریٹس سمیتا سبھروال اور ایس کے جوشی پر لاگو ہوگا۔


اگرچہ عدالت نے رپورٹ پر اسٹے دے دیا ہے، تاہم مارچ 2024 میں جاری کردہ اس سرکاری آرڈر کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت یہ کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔


کالیشورم پروجیکٹ کے حوالے سے جاری سیاسی کھینچا تانی کے درمیان ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ بی آر ایس قیادت کے لیے ایک بڑی اخلاقی اور قانونی فتح قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ حکومت اس رپورٹ کی بنیاد پر سابقہ دورِ حکومت کے اہم عہدیداروں کے خلاف شکنجہ کسنے کی تیاری کر رہی تھی۔


عدالت کے اس حکم کے بعد اب گیند دوبارہ حکومت کے پالے میں ہے کہ وہ اس تیکنیکی اور قانونی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے کیا اگلا قدم اٹھاتی ہے۔