قومی

اویسی کو یکساں سول کوڈ پر اعتراض کیوں: بی جے پی

مرکزی حکومت کی جانب سے یکساں سول کوڈ یو سی سی کے نفاذ کے امکان کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین(اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے مجوزہ قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نئی دہلی (آئی اے این ایس) مرکزی حکومت کی جانب سے یکساں سول کوڈ یو سی سی کے نفاذ کے امکان کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین(اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے مجوزہ قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اویسی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی قائدین نے ان کے موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران اویسی نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے ذریعے ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں قوانین نافذ کرنے کی بات کی جا رہی ہے، لیکن ان کے مطابق یہ قانون بنیادی طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اویسی نے کہا کہ پہلی بات یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بی جے پی اس قانون کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ کیوں بنا رہی ہے۔ دوسری بات یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا ملک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، بی جے پی اور آر ایس ایس غیر ہندوؤں پر ہندو قوانین مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چوتھی بات یہ ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے قائم کردہ لاء کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ہندوستان کے لیے یکساں سول کوڈ نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی مطلوب۔