ایران سے جنگ کیلئے امریکہ کے اخراجات میں دھماکہ خیز اضافہ، فی سکینڈ 9.8 لاکھ روپئے کا خرچ
رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ ہر سیکنڈ تقریباً 9.8 لاکھ روپے یعنی 10000 ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ یہ جنگ اب 31ویں دن میں داخل ہو چکی ہے، اور اب تک امریکی ٹیکس دہندگان کے تقریباً 2.63 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
نئی دہلی: ایران پر امریکہ کے مسلسل اور شدید حملوں کے باعث جنگی اخراجات میں حیران کن اضافہ سامنے آیا ہے۔ امریکہ اس جنگ میں تباہ کن دھماکہ خیز مواد اور جدید میزائلوں کا استعمال کر رہا ہے، جن کی قیمت انتہائی زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ غیر معمولی سطح پر مالی وسائل خرچ کر رہا ہے، اور اس کے اعداد و شمار نے سب کو حیران کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ ہر سیکنڈ تقریباً 9.8 لاکھ روپے یعنی 10000 ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ یہ جنگ اب 31ویں دن میں داخل ہو چکی ہے، اور اب تک امریکی ٹیکس دہندگان کے تقریباً 2.63 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
یہ انکشاف اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے کیا ہے۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی یہ جنگ اب انتہائی شدت اختیار کر چکی ہے۔
روزانہ کے اخراجات پر نظر ڈالیں تو امریکہ اس جنگ پر تقریباً 8455 کروڑ روپے یعنی 890 ملین ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ ان اخراجات میں دھماکہ خیز مواد، فضائی کارروائیاں، بحریہ کی تعیناتی، میزائل دفاعی نظام، انٹیلیجنس اور لاجسٹکس شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ خرچ گولہ بارود اور میزائلوں پر ہو رہا ہے، جس کے لیے روزانہ تقریباً 3040 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جو کل اخراجات کا 36 فیصد ہے۔ ان میں ٹوماہاک کروز میزائل، جے ڈی اے ایم بم اور پریسیژن گائیڈڈ بم شامل ہیں۔
فضائی کارروائیوں پر روزانہ تقریباً 2327.5 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جو مجموعی اخراجات کا 27.5 فیصد بنتا ہے۔
اسی طرح بحریہ کی سرگرمیوں پر تقریباً 1475 کروڑ روپے روزانہ خرچ ہو رہے ہیں، جن میں جنگی جہاز، ڈسٹرائرز اور آبدوزیں شامل ہیں۔ میزائل دفاعی نظام جیسے تھاڈ، پیٹریاٹ اور ایجس بی ایم ڈی پر روزانہ تقریباً 902 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جو کل خرچ کا 11 فیصد ہے۔
انٹیلیجنس اور سائبر آپریشنز کے لیے روزانہ تقریباً 427 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جس میں سیٹلائٹ نگرانی، آئی ایس آر پلیٹ فارمز اور سائبر سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عملے اور لاجسٹکس پر روزانہ تقریباً 285 کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔
جنگی اخراجات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اس معاملے پر خلیجی ممالک سے بات چیت کر سکتا ہے اور ان سے مالی تعاون طلب کر سکتا ہے۔
ماضی میں 1990 کی خلیجی جنگ کے دوران جاپان اور جرمنی نے بھی امریکہ کی مدد کی تھی۔ دوسری جانب ایران نے بھی جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ جلد ہی خلیجی ممالک سے مالی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔