ایران میں سویلین اہداف پر حملہ، دوا ساز فیکٹری اور پانی پلانٹ تباہ
ایرانی وزارتِ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ قشم شہر کے ڈی سیلینیشن پلانٹ کو پہنچنے والا نقصان اس قدر شدید ہے کہ اسے فوری طور پر دوبارہ فعال کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس بندش سے علاقے میں پینے کے صاف پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
تہران/قشم : ایران اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے اس وقت ایک نیا اور سنگین رخ اختیار کر لیا جب حملوں کے دوران کینسر کی ادویات بنانے والی فیکٹری اور پینے کے صاف پانی کے بڑے پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام نے ان حملوں کو انسانیت سوز کارروائی قرار دیا ہے۔
ایرانی حکومت اور غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، تازہ ترین حملوں میں دو اہم سویلین مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، ایران کا کہنا ہے کہ کینسر جیسی مہلک بیماری کی ادویات تیار کرنے والی فیکٹری پر حملے سے مریضوں کے لیے زندگی بچانے والی دواؤں کی فراہمی شدید متاثر ہوگی۔سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والا یہ پلانٹ حملے کے بعد مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔
ایرانی وزارتِ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ قشم شہر کے ڈی سیلینیشن پلانٹ کو پہنچنے والا نقصان اس قدر شدید ہے کہ اسے فوری طور پر دوبارہ فعال کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس بندش سے علاقے میں پینے کے صاف پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
علاقائی صورتحال میں مزید کشیدگی اس وقت بڑھی جب جنوبی لبنان میں اسرائیل کے ایک ڈرون حملے میں 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔ لبنان کی سیکیورٹی فورسز نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
طبی ماہرین اور عالمی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ادویات کی فیکٹریوں اور پانی کے پلانٹس جیسے سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، جس سے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔