حیدرآباد

دکن میں فروغ اسلام و تصوف میں حضرت بندہ نواز ؒکا بے مثال کردار،شریعت و طریقت ایک دوسرے سے جدا نہیں:مولانا ڈاکٹر سید اویس بخاری

 انہوں نے کہا لوگوں نے حضرت شیخ بو علی دقاق ؒ سے سوال کیا کہ مردانِ خدا کے ذکر سننے میں کچھ فائدہ ہے جبکہ ہم اس پر عمل نہ کرسکیں تو فرمایا: ہاں اس میں دو فائدے ہیں۔ اول: یہ کہ اگر مرد طالب ہوگا تو اسکی ہمت قوی ہوگی اور اس کی طلب اور بڑھے گی۔

حیدرآباد: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو پسند فرمالیتے ہیں تو حضرت جبریل سے فرماتے ہیں کہ اے جبریل میں  فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس بندہ سے محبت کرو، چنانچہ حضرت جبریل بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر حضرت جبریل آسمانوں میں ندا دیتے ہیں کہ اے آسمان کے رہنے والو! اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتے ہیں، تم بھی اس سے محبت کرو۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس
نعتیہ کلام دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرتا ہے: سعداللہ خان سبیل

چنانچہ تمام اہلِ آسمان بھی اس شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں، اس کے بعد اس کی مقبولیت زمین میں پھیل جاتی ہے اور اہل زمین بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔(صحیح بخاری)۔

دنیا جہاں میں کسی اللہ کے نیک بندہ کا چرچا ہوتا ہے اور ان کی ولایت کا شہرہ ہوتا ہے تو وہ بعد میں ہوتا، اس سے قبل وہ انتخابِ خداوندی قدوس ہوتا ہے پھر وہ بحکم خداوندی حضرت جبرئیل کی محبتوں کا مرکز ہوتا ہے پھر سارے ملائک اس بندہئ خدا سے محبت کرتے ہیں اور اس کی محبت کو بندگانِ خدا کے دلوں میں جاگزیں کیا جاتا ہے تب جاکر لوگ اس اللہ والے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔

مولانا ابوذکاء ڈاکٹر سید شاہ خلیل اللہ اویس بخاری نقشبندی (ڈائرکٹر ابوالفداء اسلامک ریسرچ سنٹر و جانشین حضرت ابورجاءؒ)  جامع مسجد سنگ، کنگ کوٹھی میں اپنے قبل از جمعہ خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا۔

 انہوں نے کہا لوگوں نے حضرت شیخ بو علی دقاق ؒ سے سوال کیا کہ مردانِ خدا کے ذکر سننے میں کچھ فائدہ ہے جبکہ ہم اس پر عمل نہ کرسکیں تو فرمایا: ہاں اس میں دو فائدے ہیں۔ اول: یہ کہ اگر مرد طالب ہوگا تو اسکی ہمت قوی ہوگی اور اس کی طلب اور بڑھے گی۔

دوم: یہ کہ اگر کوئی شخص متکبر ہوگا تو اس کا تکبر گھٹنے لگے گا اور غرور کے دعوے کو سر سے باہر کرے گا۔سرزمین دکن کو ناز ہے اور بجا ناز ہے کہ اس مبارک سرزمین پر بے شمار اولیاء اللہ نے اپنی اپنی خوشبو سے اس گلستان کو معطر کیا ہے۔

 ان میں قطب الاقطاب، شیخ المشائخ، ابو الفتح، صدر الدین، سید محمد حسینی عرف حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز قدس سرہ (متوفیٰ: 825 ھ) قدس اللہ سرہ العزیزکی ذاتِ مبارک ہے، جو ایک عالمِ متبحر، مفسر قرآن کریم، محدثِ عظیم، فقیہ دوراں، صوفی باصفا ہیں، آپ 105 کتب کے مصنف ہیں جن کا فیضانِ ظاہری وباطنی آج بھی جاری وساری ہے۔ آپ شریعت و طریقت کے مجمع البحرین تھے۔

علم و حکمت، فضل و کمال، سلوک و عرفان، طریقت و معرفت، ولایت و روحانیت اور زہد و تقویٰ کی ساری خوبیاں ایک مرکز پر سمٹ آئی تھیں، جن کے سبب آپ کی شخصیت فائق الاقران بن گئی تھی۔ آپ کی ذات اپنے اندر بڑی کشش اور وسعت و جامعیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ صوفی کے کام الگ ہوتے ہیں، ان کو شریعت سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا جبکہ حقیقت اس سے برعکس ہے، کیونکہ اللہ عز و جل کے فیوض کے حاصل ہونے کے دو طریق اور راستے ہیں۔ ایک کو شریعت کہا جاتا ہے اور دوسرا کے نام طریقت ہے۔

 ایک ظاہر ہے دوسرا باطن، ایک صورت ہے اور دوسرا معنی، ایک چھلکا ہے دوسرا مغز، ایک علم ہے اور دوسرا حال، ایک ہوشیاری ہے دوسرا مستی، ایک مذہب ہے دوسرا مشرب، ایک عقل ہے دوسرا عشق، اور اگر اس کو سیدھا راستہ اور راہِ استوار کا نام دیا جائے تو جائز ہوگا۔

نیز اگر دین خالص اور سلامتی کے راستہ کے لقب سے یاد کیا جائے تو روا ہوگا۔ اور اگر دعوتِ حق اور راہِ نجات کہیں تو درست، اور میزانِ عدل اور دستور العمل گردانیں تو صحیح ہے۔ حضرت خواجہ بندہ نوازؒنے ان دونوں راستوں کی جانب رہبری و رہنمائی فرمائی ہے، آپ خود فرمایا کرتے کہ یہ چار صفات بہت کم لوگوں میں جمع ہوتے ہیں یہ چار صفات سید، سنی فقیہ و صوفی ہیں، اللہ عز وجل نے یہ چاروں صفات مجھے عطا فرمایا ہے۔ آپ رسمی تصوف کی بجائے تصوف کا علمی وعملی تصور پیش فرمایا۔

 سلسلہ چشت کے بزرگوں میں اکثر کے ملفوظات و پند و نصائح ملا کرتے ہیں مگر بندہ نوازؒ کو یہ شرف و امتیاز حاصل ہے کہ آپ کثیر التصانیف بزرگ رہے، اسی بناء پر آپ سلطان القلم کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں۔

  رات کے وقت بستر پر انسان کو سوچنا چاہیے کہ اس نے دن میں کون کون سا کام کیا اور دن میں سوچنا چاہیے کہ رات کو کیا کیا۔ اپنے کاموں کا محاسبہ کرو۔ اگر دینی کام اور اچھے کام زیادہ کیے ہیں تو خدا کا شکر ادا کرو اور اس پر استقلال برتو اور اگر دین کے کاموں میں کچھ غفلت برتی ہے تو توبہ کرو اور جہاں تک ممکن ان کی تلافی کرو۔آپ کے تصانیف میں مشہور زمانہ تفسیرِ اشاری ’الملتقط‘ ہے جو اپنے آپ میں ایک نادر و نایاب تفسیر قرآن مجید ہے، جس سے آپ کی شانِ تفسیری نمایاں ہوتی ہے، سورہئ مریم کی پہلی آیت کھیعص کی تفسیر فرماتے ہیں ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ حروفِ مقطعات میں سے ایک ہے اور اللہ عز وجل جسے اس کا علم عطا فرمانا چاہے وہ نواز دیا کرتا ہے، آپ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: کن ھادیا یا یھا الرسول الی عیننا و صفاتنا۔ اے رسول ِ محترم آپ لوگوں کو میری ذات و صفات کی طرف رہبری فرمائیے۔

اس کے علاوہ آپ کی معروف تصانیف میں معراج العاشقین، حواشی کشاف، شرح فقہ اکبر، آداب المریدین، معارف العوارف، ترجمہ رسالہ قشیریہ، جوامع الکلم، شرح فصوح الحکم وغیرہ شامل ہیں۔ آپ جس عنوان پر اپنا قلم اٹھایا اس کا حق ادا فرمایا۔

 آپ کے نزدیک شریعت کی پاسداری سب سے مقدم ہے۔ آپ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں:یہ عقیدہ نہ رکھو کہ شریعت، طریقت اور حقیقت ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ (فی زمانہ جس طرح جاہل پیر کہتے پھرتے ہیں) بلکہ ایک ہیں۔ دیکھو بادام کے اندر تین چیزیں ہیں۔پوست، مغز اور روغن، تینوں ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا خلاصہ ہیں۔

 یعنی پوست کا خلاصہ مغز ہے اور مغز کا خلاصہ روغن، اسی طرح شریعت کا خلاصہ طریقت اور طریقت کا خلاصہ حقیقت ہے۔ آپ کے نزدیک وقت سے زیادہ کوئی چیز قیمتی نہ تھی۔ اس لئے آپ وقت کی بہت قدر کرتے تھے، اپنے مریدین کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے، کہ تمھارا ایک لمحہ بھی غفلت میں نہ گزرے، بلکہ اللہ جل شانہ کی یاد میں گزرے۔

آپ سے پوچھا گیا کہ زندگی افضل ہے یا موت؟ آپ ؒ نے ارشاد فرمایا کہ جب تک سرکارِ دوعالم ﷺ ظاہری زندگی میں تشریف فرما تھے تو زندگی افضل تھی اور جب آپ ﷺ اس دارِ فانی سے پردہ فرمالئے تو اب موت افضل ہے۔

ڈاکٹر اویس بخاری نے بندہ نوازؒ کی بارگاہ اور اس کے تحت چلنے والے ادارے اور علمی کارنامے اور یہاں کے سجادگان کا جذبہئ خدمت خلق، دوسری بارگاہوں کے سجادگان کیلئے ایک نمونہ و قابل تقلید عمل قرار دیا۔ آج 622 سال قبل جو علمی کارنامے کی حضرت بندہ نوازؒ نے بنیاد ڈالی تھی اس مشن پر آج بھی خواجہ ایجوکیشنل سوسائٹی قائم و گامزن ہے۔