حیدرآباد میں یادِ قمر رضا مشاعرہ، اردو ادب کے فروغ پر زور
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتیں اردو کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہیں، تاہم معاشرے کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ شعرا اور ادیبوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ اردو میڈیم اسکولوں میں داخلوں کے لیے عملی کوشش کریں۔
حیدرآباد: امیر حلقہ تلنگانہ جماعت اسلامی ہند جناب محمد اظہر الدین نے کہا ہے کہ ایک حقیقی شاعر وہی ہوتا ہے جس کے کلام میں معاشرے کی سچی عکاسی نظر آئے، اور مرحوم شاعر قمر رضا کے کلام میں یہ خوبی نمایاں طور پر موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ بعض شعرا کا کلام زندگی سے کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے، مگر قمر رضا کا کلام ان کی شخصیت اور سماجی ماحول کا آئینہ دار تھا۔
وہ جماعت اسلامی شہر حیدرآباد کے زیر اہتمام اردو گھر مغل پورہ میں منعقدہ سالانہ ادبی اجلاس و مشاعرہ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے شعرا برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سماج کے حساس مسائل کو اجاگر کر کے عوامی جمود کو توڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قمر رضا فطری شاعر تھے اور ان کی گفتگو بھی شعری رنگ لیے ہوتی تھی۔ ان کی یاد میں ہر سال ادارہ ادب اسلامی حیدرآباد کے تحت مشاعرہ منعقد کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر محسن جلگانوی نے اپنے خطاب میں اردو داں طبقہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اردو میڈیم اسکولوں میں داخل کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری سے یونیورسٹی سطح تک اردو طلبہ کی تعداد میں کمی تشویشناک ہے اور سرکاری ادارے اس صورتحال پر فکرمند ہیں۔ انہوں نے نجی انگریزی میڈیم اسکولوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اردو کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتیں اردو کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہیں، تاہم معاشرے کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ شعرا اور ادیبوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ اردو میڈیم اسکولوں میں داخلوں کے لیے عملی کوشش کریں۔
ادبی اجلاس کی نظامت سینئر شاعر ظفر فاروقی نے انجام دی۔ بعد ازاں ڈاکٹر محسن جلگانوی کی صدارت میں سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں متعدد شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
مشاعرے میں ڈاکٹر فاروق شکیل، روف خیر، سردار سلیم، سیف نظامی، طاہر گلشن آبادی، سید پاشاہ رہبر، افتخار عابد، حامد رضوی، ظہیر الدین صادق، شکیل حیدر، خادم رسول اینی، ثنا اللہ وصفی، رفیع اللہ رفیع، سعد اللہ خان سبیل، فیاض علی سکندر، جنید حسینی جنید، زاہد ہریانوی، ایم ایم عارف، لائق علی وارثی اور یوسف قدیر سمیت دیگر شعرا نے شرکت کی۔
مزاحیہ کلام میں شبیر خان اسمارٹ اور وحید پاشاہ قادری کو خاص طور پر سراہا گیا۔
اس موقع پر محمد حسام الدین ریاض نے شعرا سے اپیل کی کہ وہ موبائل فون کے بجائے کاغذ پر لکھا ہوا کلام سنائیں تاکہ اردو تحریر کی روایت برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ شعرا ہی اردو کے حقیقی محافظ ہیں۔
آخر میں ظفر فاروقی کی حج روانگی کے موقع پر انہیں مبارکباد پیش کی گئی، اور ان کے اظہارِ تشکر کے ساتھ اجلاس و مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔