حیدرآباد

جانوروں کی قربانی مسئلہ پر ہائی کورٹ میں سماعت

عدالت نے کہا کہ حساس مسائل پر لمحہ آخر میں عدالت سے رجوع کرنا کہاں تک درست ہے؟ دوسری طرف ایڈوکیٹ جنرل پرساد نے عدالت کو بتایا کہ جانوروں کی غیر قانونی منتقلی کو روکنے اور گاؤ کشی کے سدباب کیلئے تمام تر مناسب اقدامات کئے گئے ہیں۔

حیدرآباد: عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی کے مسئلہ پر تلنگانہ اسٹیٹ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔یگا ٹلپی فاونڈیشن کے بانی شیوکمار کی جانب سے تحریر کردہ مکتوب کو از خود مفاد عامہ کے تحت سماعت کے لئے قبول کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
این آئی اے پر ہائی کورٹ ڈیویژن بنچ کی تنقید
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز

 مکتوب میں شیو کمار نے تحریر کیا تھا کہ بقر عید کے روز مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے گائیوں کو قربان کیا جارہا ہے۔ عدالت نے مکتوب پر سماعت کرتے ہوئے ریمارک کیا کہ عید سے محض ایک دن قبل مکتوب تحریر کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کو روکنے کا مطالبہ کرنا غیر مناسب ہے۔

عدالت نے کہا کہ حساس مسائل پر لمحہ آخر میں عدالت سے رجوع کرنا کہاں تک درست ہے؟ دوسری طرف ایڈوکیٹ جنرل پرساد نے عدالت کو بتایا کہ جانوروں کی غیر قانونی منتقلی کو روکنے اور گاؤ کشی کے سدباب کیلئے تمام تر مناسب اقدامات کئے گئے ہیں۔

جگہ جگہ چیک پونٹس قائم کرتے ہوئے جانوروں کی غیر قانونی منتقلی پر کڑی نظر رکھی گئی ہے۔ مقدمات بھی درج کئے گئے ہیں۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو انسداد گاوکشی قانون پر عمل آوری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔

 چیف سکریٹری اور ڈی جی پی اس ضمن میں مناسب اقدامات کرنے، ریاست میں امن وآمان کی برقرار ی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔ عدالت نے عوام کو بقرعید کو حقیقی جذبہ سے منانے کا مشورہ دیا اور چیف سکریٹری و ڈی جی پی کو2/ اگست تک تفصیلی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔