جرائم و حادثات

جعلی نوٹوں کی چھپائی اور سپلائی، حیدرآباد میں 3 ملزمان گرفتار

پولیس کے مطابق آمدنی کم ہونے اور اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے اس نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے پیسہ کمانے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں اس کا رابطہ اپنے رشتہ دار راماوَت موتی لال سے ہوا۔تحقیقات میں پولیس کو معلوم ہوا کہ دونوں نے مبینہ طور پر یوٹیوب اور انسٹاگرام پر ویڈیوز دیکھ کر جعلی بھارتی کرنسی تیار کرنے اور اسے گردش میں لانے کا طریقہ سیکھا۔

حیدرآباد : شمش آباد زون ٹیم، حیدرآباد نے بالاپور پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے حیدرآباد میں مبینہ طور پر جعلی بھارتی کرنسی نوٹ چھاپنے اور انہیں گردش میں لانے میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 2,91,100 روپے مالیت کے جعلی بھارتی کرنسی نوٹ برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ جعلی نوٹ تیار کرنے میں استعمال ہونے والے پرنٹنگ آلات اور دیگر سامان بھی ضبط کیا گیا۔

  1. اصلی 100 روپے کے 4 نوٹ — زیراکس کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
  2. مجموعی طور پر 2,91,100 روپے کے جعلی کرنسی نوٹ: 500 روپے کے 437 نوٹ، 100 روپے کے 648 نوٹ اور 200 روپے کے 39 نوٹ۔
  3. ’چلڈرن بینک آف انڈیا‘ کے جعلی 500 روپے کے نوٹوں کی گڈیاں۔
  4. EPSON کلر پرنٹر (L6460 ماڈل)۔
  5. EPSON کلر امیج اسکینر۔
  6. Zebronics لیمینیٹر۔
  7. پیپر کٹر ٹول باکس۔
  8. مختلف رنگوں کے مائع رنگ — اسکائی بلیو، اورنج، اولیو گرین، براؤن، پنک اور وائلٹ۔
  9. سبز رنگ کے ریپنگ کور۔
  10. سفید کاغذ کی 2 گڈیاں۔
  11. گاندھی کی تصویر والے پرنٹ شدہ بانڈ پیپر کے 3 ٹکڑے۔
  12. واٹر مارک پیپر پر گاندھی کی تصویر کے 9 پرنٹ شدہ کاغذات۔
  13. لوہے کا اسکیل۔
  14. شیشہ۔
  15. سبز رنگ کے سلائی شدہ ریپنگ پیپر کے 5 ٹکڑے۔
  16. 3 اسمارٹ فونز۔
  17. موٹر سائیکل، رجسٹریشن نمبر TG 07 BE 9434۔

راماوَت رامو عرف محمد کا سابقہ ریکارڈ

راماوَت رامو عرف محمد کے خلاف نلگنڈہ ویمن پولیس اسٹیشن میں کرائم نمبر 07/2022 کے تحت دفعہ 498(A) آئی پی سی اور ڈی پی ایکٹ کی دفعات 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج ہے۔واردات کا طریقہ اور کیس کی تفصیلات پولیس کے مطابق اس معاملے کا مرکزی ملزم 36 سالہ راماوَت رامو عرف محمد ہے۔ وہ ریپیڈو کے ذریعے آٹو چلاتا تھا۔ وہ سائلجا سے شادی شدہ ہے اور ان کے دو بچے ہیں۔ خاندانی اختلافات کے باعث اس کی اہلیہ اسے چھوڑ کر فی الحال مریال گوڑہ میں علیحدہ رہ رہی ہے۔

پولیس کے مطابق آمدنی کم ہونے اور اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے اس نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے پیسہ کمانے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں اس کا رابطہ اپنے رشتہ دار راماوَت موتی لال سے ہوا۔تحقیقات میں پولیس کو معلوم ہوا کہ دونوں نے مبینہ طور پر یوٹیوب اور انسٹاگرام پر ویڈیوز دیکھ کر جعلی بھارتی کرنسی تیار کرنے اور اسے گردش میں لانے کا طریقہ سیکھا۔

پوچھ تاچھ کے دوران راماوَت موتی لال نے بتایا کہ یوٹیوب براؤز کرتے ہوئے اسے جعلی کرنسی نوٹ تیار کرنے سے متعلق ایک اطلاع ملی، جس میں ایک فون نمبر بھی درج تھا۔ اس نے مذکورہ نمبر پر رابطہ کرکے جعلی نوٹ بنانے کا طریقہ معلوم کیا۔مبینہ طور پر اسے بتایا گیا کہ جعلی کرنسی تیار کرنے کے لیے Epson کلر پرنٹر، اسکینر، بانڈ پیپر اور دیگر ضروری سامان خریدنا ہوگا۔

اس کے بعد ملزمان نے مبینہ طور پر آپس میں مل کر پرنٹر اور دیگر ضروری سامان خریدا اور جعلی بھارتی کرنسی نوٹ تیار کرنا شروع کردیئے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے اصلی نوٹوں کی طرح واٹر مارک بھی بنانے کی کوشش کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان یہ جعلی نوٹ رات کے اوقات میں شراب کی دکانوں اور سبزی منڈیوں میں تھوڑی مقدار میں استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ مبینہ طور پر راماوَت رامو عرف محمد کے بھتیجے راماوَت گاندھی کے ذریعے مارکیٹ میں جعلی نوٹ چلانے کی بھی کوشش کی گئی۔

قابلِ اعتماد اطلاع ملنے پر کمشنر کی ٹاسک فورس، شمش آباد زون ٹیم نے بالاپور پولیس کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے 2,91,100 روپے مالیت کی جعلی کرنسی سمیت جعلی نوٹ تیار کرنے کے آلات اور دیگر سامان ضبط کیا۔