سکندرآباد میں دل دہلا دینے والا واقعہ، اغوا کے بعد 5 سالہ بچی کی لاش برآمد
پولیس کے مطابق، اس معاملے میں وکرم نامی ایک سکیورٹی گارڈ پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو اسی ولا میں ملازمت کرتا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزم نے مبینہ طور پر بچی کی رہائی کے عوض 20 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا
حیدرآباد: سکندرآباد کے بولارم علاقے میں ایک زرعی سائنس داں کی پانچ سالہ معصوم بیٹی کو مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بچی کی لاش ولا کے کلب ہاؤس کے تہہ خانے سے برآمد ہوئی، جس کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
پولیس کے مطابق، اس معاملے میں وکرم نامی ایک سکیورٹی گارڈ پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو اسی ولا میں ملازمت کرتا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزم نے مبینہ طور پر بچی کی رہائی کے عوض 20 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔
پولیس کو شبہ ہے کہ بچی کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کلب ہاؤس کے سیلر میں چھوڑ دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں وکرم کو واقعے سے قبل بچی کے پیچھے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
بچی کے لاپتہ ہونے کے بعد پولیس نے ملزم کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی اور اس مقصد کے لیے 10 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ تفتیشی عہدیدار ملزم کے موبائل فون کی لوکیشن کا بھی سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے قریب ملزم کا موبائل فون بند ہو گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے اطراف کے علاقوں میں تلاشی مہم تیز کر دی۔ رات کے وقت ڈرون کیمروں کی مدد سے بھی تلاش کی گئی، جبکہ ریلوے اسٹیشن کے آس پاس واقع لاجوں اور ہوٹلوں کی جانچ کی گئی۔
پولیس ملزم کو گرفتار کرنے اور معصوم بچی کی موت سے متعلق تمام حالات و واقعات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔