حیدرآباد دعوتوں کا نہیں، فروغِ اردو کا شہر بنے: بزم محبانِ اردو کا قیام
اردو زبان کے فروغ اور نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کے مقصد سے "بزم محبانِ اردو، حیدرآباد" کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ نئی نسل تیزی
حیدرآباد: اردو زبان کے فروغ اور نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کے مقصد سے "بزم محبانِ اردو، حیدرآباد” کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ نئی نسل تیزی سے اردو زبان سے دور ہوتی جا رہی ہے اور اس صورتِ حال کے لیے صرف حکومتیں نہیں بلکہ خود اردو داں طبقہ بھی کسی حد تک ذمہ دار ہے۔
بزم محبانِ اردو کے صدر جناب محمد فاروق نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک زمانہ تھا جب حیدرآباد دکن کو ادبی محفلوں اور علمی سرگرمیوں کا شہر کہا جاتا تھا، مگر آج یہ شہر زیادہ تر دعوتوں اور تقریبات کے حوالے سے پہچانا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو "مجاہدِ اردو” بننے کی ضرورت ہے اور اپنے گھروں اور محلوں میں اردو کی محفلیں منعقد کرتے ہوئے بچوں اور نوجوانوں کو اردو سکھانے، پڑھانے اور اس کے استعمال کی ترغیب دینی چاہیے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ بزم محبانِ اردو کی جانب سے ہر ماہ کے پہلے اور تیسرے اتوار کو رات 8 بجے سے 10 بجے تک اعظم فنکشن ہال، مغل پورہ میں "محفلِ اردو” کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان محفلوں کے ذریعے طلبہ اور نوجوانوں کو اردو لکھنے، پڑھنے اور روزمرہ گفتگو میں اردو کے استعمال کی جانب راغب کیا جائے گا۔
ممتاز و معروف سینئر شاعر جناب ظفر فاروقی نے بزم کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی ادبی محفلیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عصری تعلیمی اداروں میں اردو تعلیم کے مناسب انتظام نہ ہونے اور گھروں میں اردو کے استعمال میں کمی کے باعث نئی نسل اردو الفاظ اور اس کی ادبی روایت سے ناواقف ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض اقلیتی کالجوں میں بھی اردو کی اسامیوں کو ختم کیا جا رہا ہے، جو اردو زبان کے لیے تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقلیتی تعلیمی اداروں اور کالجوں میں دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے اردو کی تدریس کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
تقریب کے صدارتی خطاب میں ممتاز ماہرِ تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض نے کہا کہ اردو اساتذہ، شعرا، ادبا اور اردو سے محبت رکھنے والے افراد زبان کی اہمیت پر تو گفتگو کرتے ہیں، مگر عملی طور پر اردو اخبارات خریدنے اور پڑھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون پر پی ڈی ایف فائلوں کے ذریعے اخبار بینی کی سہولت کے باوجود اردو داں طبقے کو چاہیے کہ وہ کم از کم ایک اردو اخبار ضرور خریدے تاکہ گھروں میں اردو زبان کا ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے اساتذہ، پروفیسروں اور لیکچررز سے اپیل کی کہ وہ موجودہ ایس آئی آر عمل کے دوران عوام کی بھرپور رہنمائی کریں، فارم کی درست تکمیل کے طریقہ کار سے خود بھی واقف ہوں اور دوسروں کو بھی اس سلسلے میں تعاون فراہم کریں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ بی ایل اوز کے تعاون سے محلوں میں مفت ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو فارم بھرنے میں سہولت فراہم ہو سکے۔
تقریب کا آغاز جناب موسیٰ ہاشمی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس موقع پر محمد حسین قادری عارف، محمد حسین ہاشمی، ابراہیم ہاشمی، عمر فاروق، ابراہیم شریف اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں معروف شاعر جناب ظفر فاروقی کی دعا کے ساتھ محفل اختتام پذیر ہوئی۔