بچوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا والدین کی اہم ذمہ داری: مولانا محمد حبیب الرحمٰن حسامی
مولانا حسامی نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کے لیے عملی نمونہ ہوتے ہیں، خصوصاً چھوٹے بچے اپنی والدہ کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں اور والدین کی عادات و اطوار اور طرزِ عمل ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین خود حسنِ اخلاق، نظم و ضبط اور اچھے کردار کا مظاہرہ کریں تاکہ بچے بھی انہی اوصاف کو اپنائیں۔
حیدرآباد: معروف اسلامی اسکالر اور گلشنِ ارشاد ماڈل اسکول (انگلش میڈیم و اردو میڈیم) کے بانی مولانا محمد حبیب الرحمٰن حسامی نے کہا ہے کہ بچوں کی نقل و حرکت، عادات اور دوستوں پر نظر رکھنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے، کیونکہ بچوں کی شخصیت اور کردار کی تشکیل میں والدین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے زیر انتظام مولانا آزاد ماڈل اسکول اردو میڈیم، وٹے پلی، حیدرآباد کے سمینار ہال میں منعقدہ اولیائے طلبہ کے تربیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کی نگرانی اسکول کی ہیڈ مسٹریس محترمہ آسیہ تحسین نے کی۔
مولانا حسامی نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کے لیے عملی نمونہ ہوتے ہیں، خصوصاً چھوٹے بچے اپنی والدہ کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں اور والدین کی عادات و اطوار اور طرزِ عمل ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین خود حسنِ اخلاق، نظم و ضبط اور اچھے کردار کا مظاہرہ کریں تاکہ بچے بھی انہی اوصاف کو اپنائیں۔
انہوں نے کہا کہ والدین جن اخلاقی اقدار کو اپنے بچوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں، پہلے خود ان پر عمل کریں، کیونکہ عمل کے ساتھ کی جانے والی نصیحت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے بچوں کو پابندی کے ساتھ اسکول بھیجنے، صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے اور غیر حاضری یا تاخیر سے بچنے کو بھی والدین کی اہم ذمہ داری قرار دیا۔
مولانا حسامی نے اس بات پر زور دیا کہ والدین اپنے بچوں کے دوستوں اور ان کے سماجی روابط پر خصوصی توجہ دیں، کیونکہ بچے اپنے دوستوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو مارنے، ڈانٹنے یا طعنے دینے کے بجائے محبت، شفقت اور خلوص کے ساتھ سمجھانا چاہیے اور انہیں اخلاقی کہانیاں اور انبیائے کرامؑ کے واقعات سنانے چاہئیں تاکہ ان کے کردار اور اخلاق میں بہتری پیدا ہو۔
انہوں نے مولانا آزاد ماڈل اسکول کو ایک ممتاز تعلیمی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حیدرآباد کا واحد قومی سطح کا اردو میڈیم اسکول ہے جہاں سی بی ایس ای نصاب کے تحت جماعت اول سے بارہویں تک تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں بارہویں جماعت کے بعد بی اے کی تعلیم حاصل کرنے کا بھی موقع موجود ہے، جبکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (NIOS) کی شاخ اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے فاصلاتی نظامِ تعلیم کا اسٹڈی سنٹر بھی قائم ہے، جہاں تقریباً ایک ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
مولانا حسامی نے اسکول کے اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ طلبہ کی بہتر تعلیم و تربیت اور کردار سازی کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دور میں جبکہ اردو زبان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اس نوعیت کے تعلیمی ادارے اردو زبان اور تہذیب کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو اردو ذریعۂ تعلیم میں پڑھانے پر ہرگز مایوس نہ ہوں، کیونکہ اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے بے شمار افراد آج مختلف سرکاری اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کے لیے محنت، لگن اور مسلسل جدوجہد ہی بنیادی عوامل ہیں۔
اس موقع پر اسکول کے اساتذہ نے بھی خطاب کیا جبکہ مہمانِ خصوصی کی شال پوشی کی گئی۔ آخر میں اسکول انتظامیہ نے مولانا محمد حبیب الرحمٰن حسامی کا شکریہ ادا کیا۔