ملک بھر میں E20 فیول کا نفاذ، صارفین اور آٹو انڈسٹری میں خدشات
وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مطابق اس نئے فیول کا ریسرچ آکٹین نمبر کم از کم 95 رکھا جائے گا تاکہ انجن کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیول بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز کے مقررہ معیار پر پورا اترے گا۔
حیدرآباد: ہندوستان میں توانائی کے شعبے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت 1 اپریل 2026 سے ملک بھر میں ایتھنول ملا ہوا پیٹرول، جسے عام طور پر E20 فیول کہا جاتا ہے، متعارف کرانے جا رہی ہے۔
اس فیول میں 20 فیصد تک ایتھنول شامل ہوگا، جو کہ ملک کی توانائی پالیسی میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مطابق اس نئے فیول کا ریسرچ آکٹین نمبر کم از کم 95 رکھا جائے گا تاکہ انجن کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیول بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز کے مقررہ معیار پر پورا اترے گا۔
حکومت کا مقصد اس اقدام کے ذریعے خام تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنا اور گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی کو کم کرنا ہے۔ تاہم اس اعلان کے بعد صارفین، آٹو موبائل انڈسٹری اور ماحولیاتی ماہرین کے درمیان مختلف خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
گاڑی مالکان کو خدشہ ہے کہ E20 فیول کے استعمال سے فیول ایفی شینسی اور انجن کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایتھنول کی توانائی کی مقدار پیٹرول کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، جس کے باعث فیول ایوریج میں 2 سے 7 فیصد تک کمی آ سکتی ہے، خاص طور پر پرانی گاڑیوں میں جو اس فیول کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ ایتھنول نمی کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے انجن کے ربڑ اور پلاسٹک کے پرزوں پر طویل مدت میں اثر پڑ سکتا ہے۔
تاہم آٹو موبائل انڈسٹری کے ادارے جیسے آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا اور سوسائٹی آف انڈین آٹو موبائل مینوفیکچررز نے ان خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ E20 فیول محفوظ ہے اور انجن کو نقصان پہنچنے کے خدشات بے بنیاد ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایتھنول ملاوٹ سے کاربن مونو آکسائیڈ، ہائیڈروکاربنز اور پارٹیکیولیٹ میٹر جیسے اخراج میں کمی ہو سکتی ہے، تاہم اس سے نائٹروجن آکسائیڈز اور ایسیٹالڈہائڈ جیسے دیگر مضر گیسوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ان اخراجات کی نگرانی کے لیے ابھی مکمل معیارات موجود نہیں ہیں۔
ایک اور اہم مسئلہ فیول کی وولیٹیلٹی یعنی بخارات بننے کی شرح سے متعلق ہے۔ زیادہ ایتھنول کی موجودگی خاص طور پر گرم موسم میں فیول کے جلد بخارات بننے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے فضائی آلودگی میں اضافہ اور پرانی گاڑیوں کے اخراجی نظام پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اس پالیسی کے اثرات دیگر صنعتوں پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ ایتھنول کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث دواسازی، کیمیکل اور بیوریجز جیسی صنعتوں کو سپلائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کچھ کمپنیاں درآمدات کی طرف رخ کر رہی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کے لیے گنا اور مکئی جیسی فصلوں کا استعمال خوراک کی قیمتوں اور پانی کے وسائل پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایتھنول پر زیادہ زور دینے سے الیکٹرک گاڑیوں جیسے صاف توانائی کے متبادل کی رفتار سست ہو سکتی ہے، اس لیے متوازن حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب کچھ سیاسی حلقوں نے بھی خدشات ظاہر کیے ہیں اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کی ایتھنول پالیسی کی حمایت پر سوال اٹھاتے ہوئے مفادات کے ٹکراؤ کا الزام لگایا ہے، تاہم اس حوالے سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
آٹو موبائل شعبے میں تیاری بھی یکساں نہیں ہے۔ نئی گاڑیاں E20 فیول کے مطابق تیار کی جا رہی ہیں، جبکہ پرانی گاڑیوں کے لیے تبدیلی کے آپشن محدود ہیں۔ کچھ کمپنیوں نے کنورژن کٹس متعارف کرائی ہیں، جبکہ دیگر ابھی واضح منصوبہ بندی نہیں کر سکیں۔
بھارت میں E20 فیول کے نفاذ کے بعد اس کے اثرات صارفین، صنعت اور ماحولیات پر کیا ہوں گے، اس پر آنے والے دنوں میں گہری نظر رکھی جائے گی۔