Uncategorized

سمندری عملے کے لیے اہم انتباہ، بحیرہ اسود میں کام سے پہلے حفاظتی اقدامات لازمی

ہندوستانی شہریوں سے زیادہ خطرے والے سمندری علاقوں میں ملازمت قبول کرنے سے پہلے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی اپیل

نئی دہلی : وزارت خارجہ نے ہندوستانی شہریوں کے لیے نیا مشورہ جاری کرتے ہوئے تنازع سے متاثرہ بحیرہ اسود کے علاقے میں چلنے والے یا وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ملازمت قبول کرنے سے پہلے انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔

وزارت نے کہا کہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بڑھتے خطرے کی وجہ سے یہ علاقہ انتہائی خطرناک ہو گیا ہے اور اس سال اپریل سے اب تک پانچ ہندوستانی ملاحوں کی جان جا چکی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ اسود اور اس سے متصل سمندری علاقوں میں جاری تنازع کے باعث سکیورٹی کی صورت حال انتہائی غیر مستحکم بنی ہوئی ہے۔ ان آبی علاقوں میں چلنے والے یا ان سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سمیت سنگین سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مشورے میں کہا گیا کہ "بحیرہ اسود اور اس سے متصل سمندری علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال انتہائی غیر مستحکم بنی ہوئی ہے۔ ان آبی علاقوں میں چلنے والے یا ان سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سمیت سنگین سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔” وزارت خارجہ نے کہا کہ اپریل 2026 سے تجارتی جہازوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے، جس کے نتیجے میں پانچ ہندوستانی ملاحوں کی دردناک موت ہوئی ہے۔ وزارت نے تنازع سے متاثرہ علاقے میں چلنے والے جہازوں پر ملازمت کرنے کے خواہشمند ہندوستانی شہریوں کو تقرری قبول کرنے سے پہلے تمام ممکنہ خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔

مشورے میں کہا گیا ہے کہ ملاح جہاز کے مجوزہ راستے، جن بندرگاہوں پر وہ جائے گا، سکیورٹی کے انتظامات، انشورنس کوریج اور ہنگامی ردعمل کے نظام کے بارے میں اپنے آجر، بھرتی ایجنسی اور جہاز آپریٹر سے تفصیلی معلومات حاصل کریں۔

وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ملازمت کا معاہدہ بین الاقوامی سمندری معیارات کے مطابق ہونا چاہیے اور اس میں طبی سہولت، ہنگامی انخلا، وطن واپسی اور حادثے یا سکیورٹی سے متعلق واقعات کی صورت میں مناسب معاوضے کا واضح التزام ہونا چاہیے۔ وزارت نے ہندوستانی ملاحوں کو اپنے سفر سے متعلق معلومات اہل خانہ کو دینے اور پورے سفر کے دوران باقاعدہ رابطہ برقرار رکھنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

اس کے علاوہ  شہریوں سے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ (ڈی جی ایس) اور حکومت ہند کے دیگر متعلقہ حکام کی طرف سے جاری کردہ ایڈوائزریز اور جہاز آپریٹرز و مجاز سمندری حکام کی طرف سے جاری کردہ سکیورٹی ہدایات پر عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔

مشورے میں خاص طور پر کہا گیا ہے کہ ہندوستانی شہری 23 جولائی 2026 کو بندرگاہ، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کی وزارتِ کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ کے ذریعے جاری کردہ تازہ ترین سکیورٹی ایڈوائزری کا بھی لازمی مطالعہ کریں۔ وزارت خارجہ نے ضرورت پڑنے پر ہندوستانی شہریوں سے علاقے میں واقع ہندوستانی سفارت خانوں کے رابطے میں رہنے کی اپیل کی ہے۔ مشورے میں کہا گیا ہے کہ قونصلر امداد کی ضرورت ہونے پر ہندوستانی شہری روس میں واقع ہندوستانی سفارت خانے یا یوکرین میں واقع ہندوستانی سفارت خانے سے ایڈوائزری میں دیے گئے ہنگامی رابطے کے نمبروں کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ہندوستان دنیا کے ان اہم ممالک میں شامل ہے جو مرچنٹ نیوی کے لیے عملہ فراہم کرتے ہیں اور ہزاروں ہندوستانی ملاح بین الاقوامی سمندری راستوں پر چلنے والے تجارتی جہازوں پر ملازمت کر رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کی یہ نئی ایڈوائزری بحیرہ اسود کے علاقے میں جاری تنازع کے باعث شہری جہاز رانی پر بڑھتے خطرے کو دیکھتے ہوئے جاری کی گئی ہے اور ہندوستانی شہریوں سے زیادہ خطرے والے سمندری علاقوں میں ملازمت قبول کرنے سے پہلے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی اپیل کرتی ہے