حائیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ کو فوری عہدہ سے ہٹادینے چیف سکریٹری کو ہدایت
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی سینئر سرکاری افسر کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش ایک غیر معمولی قدم ہے، لیکن مسلسل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور عدالت کو دی گئی یقین دہانیوں پر عمل نہ ہونے کے باعث یہ سفارش ناگزیر ہو گئی۔
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے ہائیڈرا (HYDRAA) کمشنر اے وی رنگناتھ، آئی پی ایس کے خلاف ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے ریاست کے چیف سیکریٹری کو سفارش کی ہے کہ انہیں موجودہ عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ کسی موزوں افسر کو تعینات کیا جائے۔
یہ حکم جسٹس جی انیل کمار پر مشتمل سنگل جج بنچ نے شانتا سیرام کنسٹرکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی تین درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ہائیڈرا کمشنر کو ماضی میں بھی متعدد مرتبہ عدالتی احکامات پر عمل کرنے اور اختیارات کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم انہوں نے نہ صرف ان احکامات پر مکمل عمل نہیں کیا بلکہ عدالت کو دی گئی یقین دہانی بھی پوری کرنے میں ناکام رہے۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ توہینِ عدالت کے اختیارات صرف سزا دینے تک محدود نہیں بلکہ ان کا مقصد عدلیہ کے وقار کو برقرار رکھنا، قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا اور یہ روکنا بھی ہے کہ کوئی شخص یا ادارہ جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرکے اس کا فائدہ حاصل نہ کرے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہائیڈرا کو سڑکوں، جھیلوں، آبی ذخائر، سرکاری زمینوں اور دیگر عوامی املاک کے تحفظ کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے، لیکن ایسے وسیع اختیارات استعمال کرتے وقت قانون کی مکمل پابندی، احتیاط اور شفافیت ناگزیر ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سرکاری اختیارات کا من مانا استعمال شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ تینوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ کسی بھی سرکاری ادارے میں غیر قانونی یا من مانی کارروائی کو برداشت نہ کیا جائے۔
عدالت نے ریکارڈ پر موجود شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ہائیڈرا کمشنر کا طرزِ عمل بار بار توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پہلے بھی متعدد مرتبہ تنبیہ کیے جانے کے باوجود انہوں نے نہ مطلوبہ احتیاط برتی اور نہ ہی عدالتی ہدایات پر مکمل عمل کیا۔
ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ ایسے حالات میں اے وی رنگناتھ کا اسی عہدے پر برقرار رہنا قانون کی بالادستی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی بنیاد پر چیف سیکریٹری سے کہا گیا ہے کہ وہ ہائیڈرا کمشنر کے عہدے کے لیے کسی مناسب افسر کا انتخاب کریں۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی سینئر سرکاری افسر کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش ایک غیر معمولی قدم ہے، لیکن مسلسل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور عدالت کو دی گئی یقین دہانیوں پر عمل نہ ہونے کے باعث یہ سفارش ناگزیر ہو گئی۔
اپنے حکم کے اختتام پر عدالت نے کہا کہ عدلیہ کا وقار اور قانون کی حکمرانی ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے۔ اگر کوئی سرکاری عہدیدار مسلسل عدالتی احکامات کو نظر انداز کرے تو آئینی عدالتیں قانون کی بالادستی کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی پابند ہیں۔
عدالت نے مزید بتایا کہ فی الحال مختصر حکم جاری کیا گیا ہے، جبکہ اس مقدمے میں تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، جس میں قانون کی بالادستی، توہینِ عدالت کے اختیارات اور انتظامی اختیارات کے ذمہ دارانہ استعمال پر تفصیلی قانونی نکات شامل ہوں گے۔