مشرق وسطیٰ

اسرائیلی فوج کی اندھادھند فائرنگ،16 سالہ فلسطینی شہید

متعدد نوجوانوں اور بچوں پر براہ راست گولیاں برسائیں اور زہریلی آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے ایک 16 سالہ بچہ گولیاں لگنے سے زخمی ہو گیا جسے ایمبولینس کے عملے نے علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔

رملہ : غرب اردن کے جنوبی علاقے الخلیل میں گزشتہ روز اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے پرتشدد کارروائیاں جاری رہیں۔

متعلقہ خبریں
وزیر جوپلی کرشنا راو نے ایک شخص کو اسپتال پہنچایا
اولاد، والدین کے لئے نعمت بھی اور ذمہ داری بھی
خالدہ ضیاء اسپتال سے ڈسچارج
اسرائیلی فوج کو عالمی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ
اسرائیلی فوجی حماس کے سامنے بری طرح ناکام : امریکی انٹلیجنس

مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوجیوں نے متعدد نوجوانوں اور بچوں پر براہ راست گولیاں برسائیں اور زہریلی آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے ایک 16 سالہ بچہ گولیاں لگنے سے زخمی ہو گیا جسے ایمبولینس کے عملے نے علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔

ہلال احمر نے تصدیق کی ہے کہ بچہ العروب کیمپ میں قابض افواج کے ساتھ تصادم کے دوران کمر اور سینے میں گولیوں سے زخمی ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ٹیموں نے اس کی نبض اور سانس بند ہونے کے بعد دل اور پھیپھڑوں کو بحال کرنے کی کوشش کی اور اسے بیت لحم کے الیمامہ ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ دم توڑ چکا تھا۔

دوسری طرف حماس نےمیلاد الرائے کی شہادت کے واقعے کو اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا ایک تازہ واقعہ قرار دیتے ہوئے بچے کو گولیاں مارنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

یاد رہے کہ مغربی کنارہ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں شامل ہے اور فلسطینیوں کو وہاں محدود خود مختاری حاصل ہے۔