ہندوستان میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز کی بھرمار، رپورٹ میں انکشاف
رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں احتجاج، کشیدگی، اور مذہبی تہواروں کے دوران انٹرنیٹ خدمات معطل کی گئیں۔ عالمی سطح پر 2025 میں 52 ممالک میں کل 313 دانستہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز ریکارڈ کیے گئے، جو 2016 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
نئی دہلی: ایک تازہ عالمی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 2025 کے دوران جمہوری ممالک میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز بھارت میں ریکارڈ کیے گئے۔ عالمی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم Access Now کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال بھارت میں مجموعی طور پر 65 مرتبہ انٹرنیٹ سروسز بند کی گئیں، جو ایک جمہوری ملک کے لیے تشویشناک قرار دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں احتجاج، کشیدگی، اور مذہبی تہواروں کے دوران انٹرنیٹ خدمات معطل کی گئیں۔ عالمی سطح پر 2025 میں 52 ممالک میں کل 313 دانستہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز ریکارڈ کیے گئے، جو 2016 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ Myanmar مسلسل دوسرے سال بھی 95 واقعات کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ بھارت دوسرے نمبر پر رہا۔ میانمار اس وقت فوجی حکومت کے تحت ہے۔
اگر طویل مدتی اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو 2016 سے اب تک درج کیے گئے 2,102 انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز میں سے 920 واقعات صرف بھارت میں پیش آئے ہیں۔
سال 2016 میں بھارت میں 30 بار انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا، جو 2017 میں بڑھ کر 69 ہو گیا، جبکہ 2018 میں یہ تعداد بڑھ کر 134 تک پہنچ گئی تھی۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی تنقید کی گئی ہے کہ قانونی طور پر انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کے احکامات کو عوامی سطح پر جاری کرنا ضروری ہے، مگر ہندوستان اس حوالے سے ایک الگ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام جمہوری اقدار کے منافی ہے اور عوامی آواز کو دبانے کے مترادف ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز کا بڑھتا رجحان نہ صرف ڈیجیٹل آزادی کے لیے خطرہ ہے بلکہ معیشت، تعلیم اور روزمرہ زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔