بین الاقوامی

تہران پر امریکی و اسرائیلی بمباری: 33 ہزار گھر تباہ، ہزاروں خاندان بے گھر

ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ تصادم نے تہران کے رہائشی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری چھت سے محروم ہو گئے ہیں۔

تہران: ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ تصادم نے تہران کے رہائشی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری چھت سے محروم ہو گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام

تہران کے میئر کے ترجمان محمد خانی نے شہر کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اب تک تہران میں تقریباً 33,000 گھروں کو مختلف نوعیت کا نقصان پہنچا ہے۔ حملوں کی شدت سے کہیں کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے ٹوٹے ہیں تو کہیں پوری عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں، جنہیں مکمل تعمیرِ نو کی ضرورت ہے۔

بمباری کے نتیجے میں تہران میں ایک سنگین انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔ اب تک 1,869 خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو کر رہائشی مشکلات کا شکار ہیں۔متاثرہ خاندانوں میں سے 1,245 خاندانوں کو شہر کے مختلف 23 رہائشی کمپلیکسز میں ہنگامی طور پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق جنگی صورتحال کے باوجود متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اب تک 4,000 سے زائد گھروں کی مرمت کا عمل شروع کیا جا چکا ہے، جس میں بلدیاتی ادارے براہِ راست مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

دفاعی اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر متاثرین کی بحالی ایرانی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا امتحان ہو گا۔