اسرائیل کا لبنان سے داغے گئے دو میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور اس کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانے تک محدود ہیں، جبکہ نومبر 2024 میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود سرحدی کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔
یروشلم: اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان سے اسرائیلی علاقے کی جانب داغے گئے دو میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ واقعہ یفتاح اور راموت نفتالی کے علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنے کے بعد پیش آیا، جس کے بعد فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیا گیا۔
دوسری جانب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں بدستور جاری ہیں، جبکہ حزب اللہ نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے جن میں جنگ بندی کو اس کے غیر مسلح ہونے سے مشروط کیا گیا تھا۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی مستقل جنگ بندی سے قبل اسرائیل کو اپنی فوجی کارروائیاں بند کرنا ہوں گی اور جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس بلانا ہوں گی۔
ادھر ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی خطے میں استحکام اور امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے 2 مارچ کو جنگ میں شمولیت اختیار کی تھی، جس کے بعد لبنان میں جاری جھڑپوں اور حملوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور اس کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانے تک محدود ہیں، جبکہ نومبر 2024 میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود سرحدی کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔