حیدرآباد

مدینہ بس حادثہ ۔ حیدرآباد کے عمرہ زائرین کی نمازِ جنازہ مسجدِ نبویؐ میں ادا کی جائے گی، تدفین جنتُ البقیع میں ہوگی

سعودی عرب کے مدینہ کے قریب پیش آئے ہولناک بس حادثے میں شہید ہونے والے حیدرآباد کے عمرہ زائرین کی نمازِ جنازہ ہفتہ، 22 نومبر کو نمازِ ظہر کے بعد مسجدِ نبویؐ میں ادا کی جائے گی۔ نمازِ جنازہ کی امامت شیخ عبدالباری الثُبیتی کریں گے۔

حیدرآباد: سعودی عرب کے مدینہ کے قریب پیش آئے ہولناک بس حادثے میں شہید ہونے والے حیدرآباد کے عمرہ زائرین کی نمازِ جنازہ ہفتہ، 22 نومبر کو نمازِ ظہر کے بعد مسجدِ نبویؐ میں ادا کی جائے گی۔ نمازِ جنازہ کی امامت شیخ عبدالباری الثُبیتی کریں گے۔

متعلقہ خبریں
جمعہ: دعا کی قبولیت، اعمال کی فضیلت اور گناہوں کی معافی کا سنہری دن،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
اردو اکیڈمی جدہ کا گیارہواں سہ ماہی پروگرام شاندار انداز میں منعقد، تمثیلی مشاعرہ اور طلبہ کی پذیرائی
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
مولانا محمد علی جوہرنے تحریک آزادی کے جوش میں زبردست ولولہ اور انقلابی کیفیت پیدا کیا: پروفیسر ایس اے شکور
کےسی آر کی تحریک سے ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہوئی – کانگریس نے عوامی مفادات کوبہت نقصان پہنچایا :عبدالمقیت چندا

نمازِ جنازہ کے بعد شہداء کی تدفین جنتُ البقیع میں کی جائے گی، جو اسلامی تاریخ کا انتہائی مقدس قبرستان ہے، جہاں بے شمار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین مدفون ہیں۔

یاد رہے کہ پیر کی صبح مدینہ کے قریب پیش آئے اس دلخراش حادثے نے پوری ملتِ اسلامیہ اور خاص طور پر حیدرآباد کے عوام کو غمزدہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ڈیزل ٹینکر سے ٹکرانے کے بعد عمرہ زائرین کی بس میں شدید آگ بھڑک اُٹھی، جس کے نتیجے میں 45 زائرین شہید ہوگئے جن میں دس بچے بھی شامل ہیں۔

شہداء کی اکثریت عاصف نگر، جھِرّہ، مہدی پٹنم اور تولی چوکی سے تعلق رکھتی تھی۔

تفصیلات کے مطابق 54 افراد 9 نومبر کو جدہ روانہ ہوئے تھے۔ ان میں سے چار افراد کار کے ذریعے مدینہ پہنچے، چار مکہ مکرمہ میں ہی رک گئے، جبکہ باقی 46 افراد اسی بس میں سفر کر رہے تھے جو حادثے کا شکار ہوئی۔

حادثے میں 45 افراد موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ واحد زندہ بچ جانے والے عبدالشعیب محمد سعودی عرب کے اسپتال میں آئی سی یو میں تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔

حیدرآباد سمیت دنیا بھر سے تعزیت اور دعاوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ متاثرہ خاندان شدید صدمے اور غم کی کیفیت میں ہیں۔