سوشیل میڈیاشمالی بھارت
ٹرینڈنگ

اتر کھنڈ میں مدرسہ اور مسجد منہدم، علاقے میں کرفیو نافذ۔گولی ماردینے کا حکم (ویڈیو)

اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے نام پر مدرسے اور مسجد کو مسمار کرنے دوران جمعرات کی شام زبردست ہنگامہ ہوا۔

نینی تال: اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے نام پر مدرسے اور مسجد کو مسمار کرنے دوران جمعرات کی شام زبردست ہنگامہ ہوا۔ پتھراؤ میں متعددپولیس ملازمین اور دیگر لوگ زخمی ہوئے۔ کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ یہ سطور تحریر کئے جانے تک ہنگامہ جاری تھا۔دوسری طرف دہرادون میں حکومت حرکت میں آگئی۔

متعلقہ خبریں
ہلدوانی میں صورتحال معمول پرنیم فوجی فورسس کی مزید کمپنیاں تعینات
ہلدوانی تشدد کی مجسٹرئیل تحقیقات کا حکم۔ 6 کروڑ کا نقصان
ہجوم نے پولیس ملازمین کو زندہ جلانے کی کوشش کی
کثرت ازدواج، کمسنی کی شادی پر مکمل امتناع کی سفارش
مدرسوں میں بھگوان رام کی کہانی پڑھائی جائے گی: :صدرنشین وقف بورڈ

صورتحال پر قابو پانے کے لیے پی اے سی اور دیگر اضلاع سے پولیس فورس کو ہلدوانی طلب کیا گیا ہے۔ہلدوانی کے بنپھول پورہ تھانہ علاقہ کے ملک کے باغیچے میں غیر قانونی تعمیرات کے سلسلے میں پولیس اور انتظامیہ کئی دنوں سے سرگرم ہے۔

پولیس اور انتظامیہ کی ٹیم نے آج شام یہاں سرکاری زمین پر تعمیر کردہ مبینہ غیر قانونی مدرسے اور مسجد کو ہٹانے کے لیے کارروائی شروع کی۔جب ہلدوانی میونسپل کارپوریشن کی ٹیم انتظامیہ اور پولیس کی تحویل میں موقع پر پہنچی اور جے سی بی کے ذریعے غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کا کام شروع کیا تو بعض لوگوں نے پولیس اور تجاوزات ہٹانے والے ملازمین پر پتھراؤ شروع کردیا۔

پولیس اور انتظامیہ نے لوگوں کو منانے کی کوشش کی لیکن مظاہرین نہیں مانے اور پتھراؤ جاری رکھا۔ چھتوں پر کھڑے لوگوں نے بھی پتھراؤ شروع کر دیا۔ جیسے جیسے اندھیرا ہوتا گیا مظاہرین مزید جارح ہوتے گئے۔ پولیس انتظامیہ کو مشتعل لوگوں کو قابو کرنا مشکل ہوگیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ مظاہرین نے کارپوریشن کی جے سی بی مشین کو توڑ دیا جو غیر قانونی تعمیرات کو ہٹا رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ ایس ایس پی پی ایس مینا اور ڈی آئی جی یوگمبر سنگھ راوت کے علاوہ انتظامی عہدیدار موقع پر پہنچ گئے اور پی اے سی کے ساتھ دیگر پولیس اسٹیشنس سے پولیس فورس کو طلب کیا گیا۔رات تک پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔

بتایا جا رہا ہے کہ اس دوران کئی پولیس عہدیدار، صحافی اور ملازمین زخمی ہوئے۔ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے کئی راؤنڈ فائر کیے، تاہم مظاہرین موقع پر ہی ڈٹے رہے۔ رات کی تاریکی میں بھی جھڑپ جاری رہی۔ پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہلدوانی بازار بھی شام کو اچانک بند ہو گیا۔

بن پھول پورہ قصبے میں اس کے ساتھ ہی، ترقیاتی بلاک ہلدوانی میں کلاس 1 سے 12 تک کے تمام اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز کو جمعہ کے روز لازمی طور پر بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔دوسری جانب چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی نے مقامی عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

اس سلسلے میں دھامی نے جمعرات کی شام دہرادون میں اپنی رہائش گاہ پر چیف سکریٹری رادھا راتوری، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ابھینو کمار اور دیگر سینئر حکام کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مقامی عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات دیں۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور علاقے میں امن کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح ہدایت دی کہ کسی کو بھی ریاست میں امن و امان سے چھیڑ چھاڑ کی آزادی نہیں دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے فون پر نینی تال کے ضلع مجسٹریٹ سے معاملے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا۔

ضلع مجسٹریٹ نے چیف منسٹر کو بتایا کہ علاقے میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ علاقے میں کافی تعداد میں پی اے سی کو تعینات کیا گیا ہے اور فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔