مشرق وسطیٰ

تہران کے ساتھ ایم او یو پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں، اور اس معاہدے کی تفصیلات ’’بہت جلد‘‘ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ انھوں نے پیر کے روز جی-7 سربراہی اجلاس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا ’’مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، معاہدہ مکمل طور پر طے پا چکا ہے۔‘‘

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر الیکٹرانک طور پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جرمنی آبنائے ہرمز میں مشن کے لیے تین بحری جہاز تعینات کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کردیا
وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کرنے والا ملزم کول ایلن عدالت میں پیش
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں، اور اس معاہدے کی تفصیلات ’’بہت جلد‘‘ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ انھوں نے پیر کے روز جی-7 سربراہی اجلاس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا ’’مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، معاہدہ مکمل طور پر طے پا چکا ہے۔‘‘

امریکی اعلیٰ حکام نے بھی معاہدے کے بعض نکات سے آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز جمعہ کے روز دوبارہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی اور اسی دن جنیوا میں اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔


امریکی صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا ایران سے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، آبنائے ہرمز کھل گئی ہے، یہ امن معاہدہ انتہائی شان دار ہے۔ انھوں نے کہا ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہونے کی امید ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ تیل کی قیمت گر رہی ہے اور اسٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا نائب صدر جے ڈی وینس دستخط کی باقاعدہ تقریب میں شرکت کریں گے، میں بھی شریک ہو سکتا ہوں۔

حکام کے مطابق، ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی مذاکرات اسی ہفتے شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ پابندیوں میں نرمی یا منجمد اثاثوں کی رہائی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے یا نہیں۔